• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 66497

    عنوان: مدرسہ کو زکوة دے کر بیٹی کی فیس کم کرانا

    سوال: مدرسہ کو زکوة دے کر بیٹی کی فیس کم کرانا۔ زیدکی بیٹی ایک مدرسہ کے اندر تعلیم حاصل کر رہی ہے ،مدرسہ کی کل فیس 1600 پاؤنڈ ہے ، مدرسہ والوں نے زیدکو یہ کہا کہ اگر وہ اپنی یا کسی اور شخص کی زکوة کی رقم کسی غریب طالب علم کی مدد کے لیے مدرسہ کو دینں گے تو زیدکی بیٹی کی زکوة کی رقم کے بقدر فیس کم کر دی جا ئے گی، مثال کے طور پر اگر زید 300پاؤنڈ زکوةکی رقم مدرسہ والوں کو دیتا ہے تو زید کو 1600پاؤنڈ فیس کے بجائے 1300پاؤنڈفیس دینی پڑے گی ، 300پاؤنڈ فیس کم کردی جائے گی۔ کیا یہ طریقہ شرعا جائز ہے ؟ اور ایسا کرنے سے زکوة زید کی زکوة ادا ہوجائے گی ؟ بعض علماء کا کہنا ہے کہ زید کے لیے مدرسہ کو زکوةکی رقم دے کر انکی بیٹی کی فیس کم کرانا جا ئز نہیں ہے کیونکہ زیدزکوةکی رقم کے بدلہ میں بیٹی کی فیس کم کرانے سے اپنے خود کی زکوة سے فائدہ اٹھارہا ہے جو جا ئز نہیں ہے اور دوسرے بعض علماء کا کہنا ہے کہ زید کے لئے مدرسہ کو زکوةکی رقم دے کر انکی بیٹی کی فیس کم کرانا جائز ہے ، زکوة کی رقم سے فائدہ اٹھانے سے مرادزیداپنے خود کی بیٹی کو زکوة کی رقم خود نہیں دے سکتا، قول فیصل کیا ہے ؟ حوالہ کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں ۔بینوا توجروا۔

    جواب نمبر: 66497

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 783-676/DL=11/1437 زکوة کی رقم مستحق کو بغیر عوض اور شرط کے مالک بنا کر دینا ضروری ہے بغیر اس کے زکوة ادا نہ ہوگی۔ صورت مسئولہ اگر بیٹی کی فیس معاف ہونے کی شرط یا عوض پر زکوة دی گئی ہے تو اس سے زکوة کی ادائیگی صحیح نہیں ہوئی۔ علماء کی پہلی جماعت کی بات درست ہے تملیک ․․․․ مع قطع المنفعة عن الملک من کل وجہ (۳/۱۷۳ الدرمع الرد) عوض لینا اور شرط لگانا بھی منفعت حاصل کرنے کی شکل ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند