• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 66308

    عنوان: کیا سید اپنے علاج کے لیے زکاة یا صدقہ لے سکتاہے ؟

    سوال: اگر سید فیملی کا آدمی کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس کا علاج بہت مہنگا ہو اور وہ علاج کی طاقت نہ رکھتاہو تو کیا ؛ (۱) کیا وہ اپنے علاج کے لیے زکاة یا صدقہ لے سکتاہے ؟ (۲) کیا وہ کسی ایسے اسپتال سے علاج کرواسکتاہے جو زکاة اور صدقات سے چلتاہو ؟

    جواب نمبر: 6630801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 854-854/M=9/1437 سید کے لیے زکوة یا صدقاتِ واجبہ لینا درست نہیں، اگر سید کسی بڑی بیماری میں مبتلاء ہے اور وہ غریب ہے علاج کی طاقت نہیں رکھتا تو نفلی صدقات اور عطیہ وغیرہ کے ذریعہ اس کی امداد کرنے چاہئے، ہاں اگر کسی نے زکوة کی رقم مستحق زکوة شخص کو دے کر مالک بنا دیا پھر اس غریب نے اپنے خوشی سے بلا جبر و اکراہ کے اس بیمار سید کو ہبہ کردیا تو یہ درست ہے اور اس پیسے سے وہ اپنا علاج کرسکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند