• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 62506

    عنوان: پندرہ سال قبل ایک زمین خریدی گئی ،مدرسہ کے لیے جس میں کچھ حصہ پیسہ زکاة کا لگا کچھ تملیک کیاگیا اور کچھ تملیک نہیں کیا گیا...

    سوال: پندرہ سال قبل ایک زمین خریدی گئی ،مدرسہ کے لیے جس میں کچھ حصہ پیسہ زکاة کا لگا کچھ تملیک کیاگیا اور کچھ تملیک نہیں کیا گیا اور اس زمین پر کچھ تعمیر بھی کی گئی جس میں بھی زکاة کی رقم بھی بغیر تملیک کے لگائی گئی ،کافی دنوں سے تو وہ زمین خالی پڑی ہوئی ہے وہاں کے محلے والے مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں، کچھ علمائے کرام سے مشورہ کیا گیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ زمین کی قیمت دوسرے کسی مدرسہ میں ادا کریں اور عمارت کو گرا کر مسجد تعمیر کرسکتے ہیں؟ کیا یہ صورت شرعی نقطہ نظر سے جائز ہے یا اس کی کوئی دوسری صورت ہوسکتی ہے ؟ براہ کرم، جواب دیں،کیوں کہ اس زمین پر دوسرے لوگوں کی نظریں جس کی وجہ سے مسجد کی تعمیر کا مشورہ دیا جارہا ہے ؟

    جواب نمبر: 62506

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 160-160/M=3/1437-U جو زمین مدرسہ کے لیے خریدی گئی ہے اس پر مسجد بنانا درست نہیں ہے؛ وإن اختلف أحدہما بأن بنی رجلان مجسدین أو رجلٌ مسجدًا ومدرسةً ووقف علیہما أوقافًا لا یجوز لہ ذلک أي الصرف المذکور․ (الدر مع الرد ج۴، ۳۶۰-۳۶۱ ط: سعید کراچی) البتہ زکاة کی رقم بغیر تملیک کے جو مدرسہ کی زمین کی خریداری میں خرچ ہوئی ہے وہ ناجائز ہوا ہے، خرچ کرنے والوں پر لازم ہے کہ اتنی رقم ضمان کے طور پر اپنی ملک سے مستحق لوگ پر تملیکاً خرچ کریں تاکہ زکاة دہندگان کی زکاة ادا ہوجائے۔ والودیعة لا تودع ولا تعار ولا تواجر ولا ترہن وإن فعل شیئًا منہا ضمن․ (الہندیة: ج۴ ص ۳۳۸، ط: رشیدیہ) ویشترط أن یکون الصرف تملیکاً لا إباحة کما مرّ․ لا یصرف إلی بناء نحو مسجد إلخ قال العلامة الشامي: کبناء القنطر والسقایا وإصلاح الطرقات وکری الأنہار والحج ․․․ والجہاد وکل ما لا تملیک فیہ․ (الدر مع الرد: ج۲ ص ۳۴۲، ط: سعید کراچی)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند