• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 611375

    عنوان:

    كیا وراثتی پلاٹ پر زكاۃ ہے؟

    سوال:

    جناب مفتیان صاحبان میرے پاس ایک گاؤں میں کنال کا پلاٹ ہے اور کسی تجارتی مقصد کے لئے نہیں رکھا صرف خالی پڑا ہے۔گھر بنانے کا مقصد بھی نہیں بلکہ اس میں بور کرا کر پانی گاؤں کی مسجد کو دے رہا ہوں۔ کیا اس پلاٹ پر زکوٰۃ واجب ہے یا فرض ہے؟

    جواب نمبر: 611375

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1259-955/L-9/1443

     مذكورہ بالا صورت میں اگر وہ آپ كا آبائی ووراثتی پلاٹ ہے یا آپ نے اس كو تجارت كی نیت سے نہیں خریدا ہے تو اس كی مالیت پر زكوة واجب نہیں۔

    وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة لما ذكرنا فيما تقدم بخلاف الذهب والفضة فإنه لا يحتاج فيهما إلى نية التجارة؛ لأنها معدة للتجارة بأصل الخلقة فلا حاجة إلى إعداد العبد ويوجد الإعداد منه دلالة على ما مر.[بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 2/ 21]


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند