• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 608889

    عنوان: مساجد میں زکاة صدقہٴ فطر کا پیسہ لگانا جائز نہیں

    سوال:

    سوال : میں طالب علم ہوں اور میرے علاقے میں علماء بہت کم ہیں، جب میں تعطیلات میں گھر گیا تو کسی صاحب نے پوچھا کہ صدقة الفطر کہاں ادا کروں، میرے علم کے مطابق میں نے اسے ایگ جگی بتلایا، میرے علم کے مطابق وہ صرف فقراء کو کھانا دے تے تھے اس پیسے سے. پھر بعد میں پتہ چلا کہ ان پیسوں سے غرباء کے لئے گھر بھی بناتے ہیں اور مساجد و مکاتب بھی. ظاہر ہے کہ آخری دو صورتوں میں تملیک نہیں ہوتی. اور اس صاحب نے بڑی رقم دی تھی، اس لئے کے اپنے پورے خاندان کی طرف صدقہ ادا کیا تھا. سوال یہ ہے کہ اس صورت میں اس کا صدقہ ادا ہوا یا مجھے ان سے کہنا پڑیگا کہ واپس کسی اور جگہ ادا کرو جہاں تملیک بھی ہوجائے؟

    جواب نمبر: 608889

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 713-655/B=06/1443

     مساجد میں زکاة صدقہٴ فطر کا پیسہ لگانا جائز نہیں۔ نہ مسجد کو زکاة کا پیسہ دینا جائز ہے۔ اور مکاتب میں ایسا مکتب جس میں نادار و غریب طلبہ پڑھتے ہوں مدرسہ میں مطبخ قائم ہو طلبہ کو مطبخ سے کھانا دیا جاتا ہو تو ایسے مکتب میں زکاة کا پیسہ دے سکتے ہیں۔

    اگر کسی نے غریب کے لیے گھر بنوایا یا اس کے لیے زکاة یا صدقہ قطر کی رقم سے زمین خریدی اور گھر تعمیر کراکے کسی غریب کو مالک بنادیا تو اس صورت میں بھی زکاة اور صدقہ فطر دینے والوں کی زکاة اور صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند