• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 608794

    عنوان: غریب لڑکی کو مد زکاة میں فرنیچر دینا 

    سوال:

    سوال : ایک لڑکی ہے ، اس کے ماں باپ بھی زندہ ہیں چھوٹے بھائی بھی ہیں جن میں دو بھائی بالغ ہیں ایک ابھی چھوٹا ہے دو بالغ بھائیوں میں سے ایک ابھی مدرسے میں حفظ کرتا ہے اور دوسرا تھوڑا بہت کام کرتا ہے اس لڑکی کے والد کا کافی بھاری نقصان ہوا ہے جس سے انکا اب اپنا کوئی کاروبار نہیں رہا انکا مکان اپنا ہے اور ایک جگہ ہے اپنی جو لڑکی کے باپ نے اپنے بھائی کو کرائے پر دی ہے لیکن انکا بھائی کرایا کبھی دیتا ہے کبھی نہیں دیتا اب انہو ں نے اپنی بچی کی شادی کرنی ہے انہوں نے جہیز بنانا تھا لیکن ان کے پاس اتنا مال نہیں ہے اگر گھر بیچتے تو رہیں گے کہاں لیکن اس لڑکی کے ماموں کہتے اس کا ضرنیچر میں بنا کے دوں گا اب وہ ضرنیچر جو بنا کے دیں اوہ جتنے کا بھی بنے وہ اس مال کو زکات کے حصے میں ڈال دیں تو کیا ایسے زکات ادا ہو جائے گی اور اس بچی کو زکات لگتی ہے یا نہیں ؟

    جواب نمبر: 608794

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 695-566/B=06/1443

     جب باپ کو بھاری نقصان پہنچنے سے وہ اور اس کی اولاد سب غریب و محتاج ہوگئے اور صاحب نصاب نہ رہے تو ایسی صورت میں اگر لڑکی کے ماموں فرنیچر کا سامان مد زکاة میں اپنی بھانجی کو دیدے تو ماموں کی زکاة ادا ہوجائے گی، اور لڑکی کے لیے سامان لینا بھی جائز ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند