• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 605560

    عنوان:

    سید( جس کے پاس شجرہ نہ ہو) کو زکات دینے کا حکم

    سوال:

    مفتی صاحب میرا ایک سوال ہے کیا سید کو زکوة دے سکتے ہیں کیوکی ایک صاحب نے کہا ہے ہے کہ مفتی سعید احمد پالنپوری رحمة اللہ علیہ نے فتوی دیا ہے سید کو زکوة دے سکتے ہیں کیوں کہ ہندوستان میں سیدو کا نسب نامہ محفوظ نہیں ہے ، اس لیے سید کو زکوة دے سکتے ہیں ۔برائے کرم جواب عنایت فرمائے جزاک اللہ خیرا کثیرا

    جواب نمبر: 605560

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:989-649/SN=12/1442

     سید کو زکات دینا شرعا جائز نہیں ہے، یہی مفتی بہ قول ہے؛ البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ واقعتاً خاندانِ سادات میں سے ہو، اگر کسی شخص کے پاس شجرہ نسب محفوظ ہے یا پرکھوں سے اسکا خاندان سید خاندان کے طور پر مشہور ہے تو یہ بھی قرینہ سادات میں سے ہونے کا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے پاس نہ تو شجرہ ہے اور نہ ہی قدیم سے ان کا خاندان سید خاندان کے طور پر مشہور ہے تو پھر انھیں ”سید“نہیں کہا جاسکتا، اس طرح کے لوگ اگر اپنے کو ”سید“ کہیں یا لکھیں تو اس کا اعتبار نہ ہوگا؛ لہذا اگر کوئی شخص انھیں زکات کی رقم دے تو شرعا یہ ممنوع نہ ہوگا بہ شرطے کہ وہ غریب اور مستحق ہوں، حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری نے تحفة الالمعی(3/574) میں جو کچھ تحریر کیا ہے،اس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ مشکوک ”سیدوں“ کو دینا جائز ہے، سب کو نہیں ۔

    (و) لا إلی (بنی ہاشم) إلا من أبطل النص قرابتہ وہم بنو لہب، فتحل لمن أسلم منہم کما تحل لبنی المطلب. ثم ظاہر المذہب إطلاق المنع، وقول العینی والہاشمی: یجوز لہ دفع زکاتہ لمثلہ صوابہ لا یجوز نہر (و) لا إلی (موالیہم) أی عتقائہم فأرقاؤہم أولی لحدیث مولی القوم منہم.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 3/ 299، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند، الہند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند