• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 605123

    عنوان:

    زكات كے باب میں ضم بالاجزا۶اور ضم بالقیمت سے کیا مراد ہے؟

    سوال:

    ضم بالاجزا۶اور ضم بالقیمت سے کیا مراد ہے تفصیل سے وضاخت کریں؟ کہ ضم بالاجزا۶میں کیا کیا چیز شامل ہے اور ضم بالقیمت میں کیا کیا شامل ہے ؟

    جواب نمبر: 605123

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 853-835/M=01/1443

     اگر کسی شخص کے پاس سونا اور چاندی دونوں موجود ہیں لیکن دونوں، مقدار نصاب سے کم ہیں، ایسی صورت میں اگر دونوں کا الگ الگ اعتبار کریں تو زکاة واجب نہیں ہوتی ہے اور دونوں کو ملانے کی صورت میں زکاة واجب ہوجاتی ہے تو فقہاء فرماتے ہیں کہ دونوں کو ملایا جائے گا، لیکن یہ ملانا کس حساب سے ہوگا تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیمت کے حساب سے ملایا جائے گا اسی کو ضم بالقیمت کہتے ہیں اور صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اجزاء کے حساب سے ملایا جائے گا اس کو ضم بالاجزاء کہتے ہیں، مثلاً اگر کسی شخص کے پاس چالیس تولہ چاندی اور آدھا تولہ سونا ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک زکاة واجب ہوگی، صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک نہیں، مزید اس مسئلے کو مقامی کسی معتبر استاذ فقہ سے بالتفصیل سمجھ سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند