• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 604997

    عنوان:

    مكان خریدنے كے لیے زمین بیچ دی‏، كیا اس رقم پر زكاۃ ہے؟

    سوال:

    میرے بھائی نے پندرہ سال پہلے گھر بنانے کے لیے زمین خریدی تھی، لیکن اس نے وہ زمین دو مہینے پہلے بیچ دی ہے اور اسی پیسہ سے وہ گھر خریدنا چاہتاہوں، کیا ان پیسوں پہ زکاة نکالنا چاہئے؟

    جواب نمبر: 604997

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 862-582/SN=11/1442

     جی ہاں! اگر آپ کا بھائی پہلے سے صاحب نصاب ہے تو جب سال پورا ہوگا تو دیگر اموال کے ساتھ اس رقم کو بھی شامل کرکے اسے زکاة ادا کرنی ہوگی۔ اگر پہلے سے صاحب نصاب نہیں ہے، اسی رقم سے وہ صاحب نصاب ہوا ہے تو اس رقم کے ملکیت میں آنے کے بعد سے آئندہ جب سال پورا ہوگا (قمری اعتبار سے) تو اس کی ملکیت میں اس وقت مجموعی طور پر جو مال ہوگا اس کی زکاة اسے ادا کرنی ہوگی، درمیان سال میں جو کچھ خرچ کردے گا اس کی زکاة اس کے ذمے نہ ہوگی۔ والمستفاد ولو بہبة أو إرث وسط الحول یضمّ إلی نصاب من جنسہ فیزکیہ بحول الأصل (درمختار مع الشامی: 3/214، کتاب الزکاة، مطبوعہ: مکتبہ زکریا، دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند