• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 604983

    عنوان:

    ادھار مال کی زکات کا حکم كیا ہے؟

    سوال:

    مفتی صاحب ، ہم نے ایک چیز کی بیع کی تھی اور سامنے والے نے قیمت ادا نہیں کی تو کیاہم دوسرے مال کے ساتھ اس کی زکات ادا کریں یا نہیں؟

    جواب نمبر: 604983

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:825-595/sd=11/1442

     خریدار کے ذمہ جتنی قیمت بقایا ہے اس کی زکات آپ پر واجب ہے ؛ البتہ اس کی ادائیگی اسی وقت لازم ہوگی جب وہ رقم وصول ہوجائے گی تو جتنے سال رقم مقروض خریدار کے پاس رہی ہے اتنے سالوں کی زکات کی ادائے گی واجب ہوگی اور اگر رقم ملنے سے پہلے ہی ہر سال اپنے دوسرے اثاثوں کے ساتھ آپ اس کی زکات بھی نکال دیا کریں تو زکات اداء ہوجائے گی ؛ بلکہ بہتر ہوگا۔وبدل مال تجارة الخ ( در مختار )( فتاوی عثمانی : ۴۵/۲، زکریا)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند