• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 604089

    عنوان:

    میری دكان میں پانچ لاكھ مال تجارت موجود ہے‏، لیكن تین لاكھ كا مقروض ہوں كیا زكاۃ لے سكتا ہوں؟

    سوال:

    بندہ عبدالرحمن میل وشارم(خادم مسجد حلیم الرشید) بندہ امامت کے ساتھ تجارت بھی کرتا ہے ہمارے شہر کے صاحب خیر حضرات رمضان المبارک کے مہینے میں علمائے کرام اور ائمہ کرام کی خدمت میں کچھ رقم دیتے ہیں بعض حضرات زکوٰة بھی دیتے ہیں۔

    اب سوال یہ ہے بندہ امامت کے ساتھ تجارت بھی کرتا ہے بندہ تقریباً تین لاکھ روپے کا مقروض ہے جس کی وجہ سے بیوی کا زیور رہن میں رکھا ہوں لیکن دکان میں تقریباً پانچ لاکھ روپے کا سامان ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا بندہ زکوٰة کا مال لے سکتا ہے ۲.لیکر دوسرے مستحق کودے سکتے ہیں کیا؟ اس صورت میں مال والوں کی زکوٰة ادا ہوگی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 604089

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:614-521/N=8/1442

     (۱، ۲): جب آپ کی دکان میں تقریباً پانچ لاکھ روپے کا مال ِتجارت ہے اور آپ صرف تین لاکھ روپے کے مقروض ہیں، یعنی: قرضے سے فارغ آپ کے پاس تقریباً ۲/ لاکھ روپے کا مالِ تجارت ہے تو آپ خود صاحب نصاب ہیں،آپ پر زکوة واجب ہے اور آپ کے لیے زکوة لینا ہرگز جائز نہیں اگرچہ آپ کی نیت بعد میں کسی مستحق زکوة کو دینے کی ہو، اور اگر کوئی شخص آپ کو مستحق سمجھ کر زکوة دینا چاہے تو آپ پر منع کردینا ضروری ہے اور اگر کبھی غفلت میں لے لی تو واپس کردینا ضروری ہوگا؛ البتہ اگر زکوة دینے والا آپ کوزکوة نہ دے؛ بلکہ کسی مستحق زکوة کو زکوة دینے کا آپ کو وکیل بنائے ، یعنی: آپ کے ذریعے کسی متعین یا غیر متعین مستحق زکوة کو زکوة دے، آپ صرف وکیل اور واسطہ ہوں تو آ پ کے لیے بہ حیثیت وکیل زکوة لے کر کسی مستحق زکوة کو زکوة دینے میں کچھ حرج نہیں۔

    قال اللّٰہ تعالی: ﴿إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة﴾ (سورة التوبة، رقم الآیة:۶۰)۔

    (و) لا إلی (غني) یملک قدر نصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیة من أي مال کان إلخ،……(و)لا إلی (بنی ھاشم)إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف، ۳: ۲۹۵-۲۹۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۶: ۱۰۰ - ۱۰۷، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند