• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 603964

    عنوان:

    مساجد کے زکات بکس میں یا مہتمم مسجد و مدرسہ یا خیراتی فاونڈیشن کو زكات كی رقم دینا ؟

    سوال:

    کیا مساجد میں زکوات بکس میں زکوات کی رقم ڈالنے سے اور کیا مدرسہ اور مسجد کے مہتمم جو زکوات کی رقم زکوات جان کے اکھٹا کرتے ہیں ؟ یا مختلف فاونڈیشن جیسے پاکستان میں ایدی یا عمران خان کینسر ہسپتال جو زکوات کے رقوم اکھٹا کرتے ہیں ان کو آیا زکوات دینے والے کی زکوات ادا ہو جاتی ہے ؟

    جواب نمبر: 603964

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 678-570/D=08/1442

     زکاة کی رقم مستحق زکاة شخص کو مالک بناکر دینے سے ادا ہوتی ہے مساجد میں زکاة کی رقم نہیں لگ سکتی اس لئے مساجد کے بکس میں زکاة کی رقم نہیں ڈالنا چاہئے اس سے زکاة ادا نہ ہوگی۔

    مدرسہ یا فاوٴنڈیشن والوں کو بھی بتلاکر زکاة کی رقم دینا چاہئے تاکہ وہ ذمہ دار مصرف زکاة میں خرچ کرسکے۔ بکس میں مخلوط کردینے سے زکاة ادا نہ ہوگی جب تک کہ مصرف میں نہ پہونچے اور ذمہ دار کو جب رقم کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ زکاة کی ہے یا دوسرے مَد کی تو مصرف زکاة میں خرچ کیسے کرے گا۔ ہاں اگر مخلوط رقم سب مصرف زکاة میں خرچ کردی جائے تو پھر زکاة ادا ہوجائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند