• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 603897

    عنوان:

    کرایہ کی رقم میں زکات ہے یا نہیں؟

    سوال:

    ایک مرد ہے جس کا خود کا گھر ہے لیکن اس گھر کو اس نے کرائے پر دے رکھا ہے ، اور خود دوسرے شہر میں جا کر کرائے پر رہتا ہے ، اور اپنے گھر سے حاصل ہونے والے کرائے سے اِس گھر کا کرایا ادا کر تا ہے ، تو کیا اسے کرائے کہ پیسوں کی بھی زکاة نکالنی ہوگی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 603897

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:750-222T/sn=8/1442

     اگر یہ شخص صاحب نصاب ہے یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612گرام 360 ملی گرام) ہے یا اس کی مالیت کے برابر سونا، چاندی، نقد رقم وغیرہ مجموعی طور پرموجود ہے تو صورت مسئولہ میں کرائے کی مد میں حاصل شدہ رقم پر حسب ضابطہ زکات لازم ہوگی یعنی یہ رقم بھی اصل نصاب کے ساتھ جڑجائے گی، اور سال گزرنے پر دَین منہا کر نے کے بعد اس کے پاس جو کچھ رقم یا قابلِ زکات مال ہوگا، اس کی زکات ادا کرنی ہوگی۔

    (والمستفاد) ولو بہبة أو إرث (وسط الحول یضم إلی نصاب من جنسہ) فیزکیہ بحول الأصل (الدر المختار) (قولہ: ولو بہبة أو إرث) أدخل فیہ المفاد بشراء أو میراث أو وصیة وما کان حاصلا من الأصل کالأولاد والربح کما فی النہر (قولہ إلی نصاب) قید بہ؛ لأنہ لو کان النصاب ناقصا وکمل بالمستفاد فإن الحول ینعقد علیہ عند الکمال، بخلاف ما لو ہلک بعض النصاب فی أثناء الحول فاستفاد ما یکملہ فإنہ یضم عندناإلخ (الدر المختار مع رد المحتار) 3/ 214،باب زکاة الغنم،مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند، الہند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند