• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 603437

    عنوان:

    صاحب نصاب شخص کا مال زکوٰة سے غریب کی امداد کرنا

    سوال:

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:ایک صاحبِ نصاب شخص اپنے مال زکوٰة سے کسی غریب کی مدد کرنا چاہتاہے ، یا کبھی اجتماعی ضرورت پیش آجاتی ہے ، مثلاً کسی جگہ زلزلہ آگیا، سیلاب آگیا یا اور کوئی آفت سماوی نازل ہوئی جس سے متعدد لوگ متاثر ہوتے ہیں ، یا گزشتہ دنوں میں لاک ڈاو ن کی وجہ سے بہت سے لوگ امداد کے محتاج ہوئے ۔ہم نے سنا ہے کہ مالِ زکوٰة صحیح العقیدہ کو ہی دینی چاہیے ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ:۱- کیا بریلوی اور شیعہ مسلک سے متعلق لوگوں کو زکوٰة دی جا سکتی ہے ، جب کہ اکثر عوام کو اپنے نظریات و عقائد کا پتہ ہی نہیں ہوتا؟۲- اگر ایک شخص جس کو ہم جانتے ہیں کہ وہ صحیح العقیدہ ہے مگر وہ کسی اور شخص کی سفارش کرتا ہے کہ فلاں بہت مجبور اور مستحق ہے مگر ہم اس فلاں کے عقیدہ کے بارے میں نہیں جانتے اور پوچھ بھی نہیں سکتے تو کیا سفارش کرنے والے پر اعتماد کر کے زکوٰة دی جاسکتی ہے ؟۳- اگر اجتماعی ضرورت ہو کسی علاقہ میں امداد کی ، وہاں کچھ لوگوں کے بارے میں تو پتہ ہو اور کچھ کے بارے میں علم نہ ہو تو کیا پور ے علاقے والوں کو زکوٰة کا مال تقسیم کیا جاسکتا ہے ؟۴- کچھ لوگ بریلویوں والے کچھ اعمال کرتے ہوں، یا بعض لوگ موالی ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں ، محرم میں کالے کپڑے پہن لیتے ہیں، مولا علی کہتے ہیں ، یا اس کے طرح کے بعض اعمال مگر ان کو دین و عقیدہ کا کچھ پتہ نہیں ہوتا ، کیا ایسے لوگوں کوزکوٰة دی جاسکتی ہے ؟۵- اگر کسی کے بارے میں اس کے عقائد کا علم نہ ہو اور اس کی مدد کرنا چاہتے ہوں تو تحقیق کی کیا صورت ہوگی اور کس حد تک تحقیق کرنی چاہیے ؟

    جواب نمبر: 603437

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 788-279T/H=10/1442

     (۱) آپ نے لکھا ہے ”جب کہ اکثر عوام کو اپنے نظریات و عقائد کا پتہ ہی نہیں ہوتا“ معلوم نہیں آپ نے یہ کیسے لکھ دیا جب کہ عامةً تو بریلوی اور شیعہ اپنے اپنے نظریات سے واقف ہوتے ہیں۔

    (۲) اگر وہ صحیح العقیدہ شخص قابل اعتماد ہے تو جن لوگوں کی وہ سفارش کر رہا ہے ان لوگوں کی تحقیق اس صحیح العقیدہ شخص ہی کے توسط سے کرلیں اگر اس کی تحقیق کے صحیح ہونے پر دل گواہی دے اور ان لوگوں کا مصرف زکاة ہونا محقق ہوجائے تو ان کو اپنی زکاة دیں ورنہ معذرت کردیں۔

    (۳) کیف مااتفق زکاة تقسیم نہ کریں خوب اچھی طرح تحقیق کے بعد جن لوگوں کا مصرف زکاة ہونا معلوم و محقق ہوجائے ان کو زکاة دیں ورنہ زکاة کے ضائع ہونے نیز ادائیگی نہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

    (۴) جن لوگوں پر زکاة فرض ہے ان کی خود یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مصارف زکاة کی تحقیق کرکے اپنی زکاة اداء کریں اور مصارف زکاة میں حتی المقدرت اس کی کوشش کریں کہ صحیح العقیدہ و صحیح الاعمال نیک متقی مصارف زکاة غرباء کو زکاة دیں۔

    (۵) مقامی علماء کرام بالخصوص اصحاب فتویٰ حضرات کے مشورہ اور ہدایات کو حاصل کرکے زکاة کی ادئیگی کا نظام بنائیں ان کی رہنمائی و رہبری میں زکاة و دیگر صدقات واجبہ و عطیات کو مستحقین تک پہونچانے کی کوشش کریں گے تو ان شاء اللہ بہت حد تک صحیح ادائیگی ہوگی اور صدقات کے ضائع ہونے سے حفاظت بھی رہے گی دنیا و آخرت میں برکات کا ظہور ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند