• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 60326

    عنوان: تملیك كركے زكاۃ كا پیسہ مسجد میں لگانا

    سوال: زیر تعمیر مسجد میں زکاة کا پیسہ لگا سکتے ہیں؟ اور اگر نہیں لگا سکتے تو ایک شخص زکاة کے پیسے لگا رہاہے؟اس سے بھی کہا کہ زکاة کے پیسوں پہ مسجد نہیں بنتی ، لیکن اس نے تین لاکھ اٹھا کر کسی غریب کے ہاتھ میں دیدیا اور کہا کہ اسے زکاة میں قبول کرو ، اس نے قبول کرلیا اور پھر اس غریب سے وہ پیسہ واپس لے لیا اور اس پیسہ کومسجد میں لگا دیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟ یا اسے اپنی زکاة نہیں نکالنی چاہئے؟ کیا کرنا چاہئے اس غریب کے لیے اور جس نے یہ کیا اس کے لئے؟براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 60326

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 948-948/M=9/1436-U زکات کی رقم براہ رست مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز نہیں، کیوں کہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی ، اور زکاة کی رقم مسجد میں لگانے کے لیے رسمی تملیک کا طریقہ اختیار کرنا بھی درست نہیں، ہاں اگر زکاة کسی غریب اور مستحق شخص کو دے کر مالک بنادیا جائے پھر وہ اپنی خوشی سے بلاجبر کے مسجد میں دیدیے تو اس کو لگاسکتے ہیں؛ لیکن سوال میں جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ صاف اور بے غبار نہیں، غریب کو دے کر واپس لینے کی صورت میں جبری اور رسمی معلوم ہوتی ہے، پھر اتنی بڑی رقم ایک غریب کو دینا کہ جس سے وہ صاحب نصاب ہوجائے یہ بھی مکروہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند