• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 602092

    عنوان:

    نرسری کے پھول کے پودوں پر زكات ہے یا نہیں؟

    سوال:

    ایک شخص نے اپنے نرسری کیلئے پھول کے پودے خریدے پھر وہ پودے بک نہ سکے تو نرسری کے مالک نے ان پودوں سے تین کام لیئے نمبر 1 اس پودے کے پھول کا تخم لیا اسکو کاشت کیا اگلے سال کیلئے نمبر 2 اسی پودے کے شاخوں کو کاٹ کر کے دوسرے گملوں میں لگایا وہ بھی اگلے سال مستقل پودے بن گئے نمبر 3 اسی پودے کے جڑوں کو محفوظ کر کے اگلے سال کیلئے مستقل الگ پودے بنا دئیے اب ان تینوں صورتوں میں عشر ہے یا یہ مال تجارت ہے ؟

    جواب نمبر: 602092

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 367-184T/D=10/1442

     (۱) نرسری کے لئے پھول کے پودے خریدے جس سے مقصد انھیں فروخت کرنا تھا تو یہ پودے مال تجارت ہوئے، نصاب کا سال پورا ہونے پر حسب شرائطِ زکاة، ان کی زکاة بھی نکالنی ہوگی۔

    (۲) ان پودوں سے جو تخم لے کر کاشت کیا تو تخم جب تک عام منفعت کے قابل نہ تھے ان میں نہ زکاة واجب ہوگی نہ عشر، کیونکہ تخم نکال کر کاشت کرنے سے وہ مال تجارت ہونے سے نکل گئے اور کاشت کے بعد جب تک عام منفعت کے لائق نہ ہوں گے عشر بھی واجب نہ ہوگا۔ والبذور اللتی لا تصلح الا للزراعة کبذر البطیخ وما اشبہ ذالک فلا عشر فیہ لانہا غیر مقصودة فی نفسہا ولانہ لا ینتفع بہا انتفاعاً عاماً (ہندیة: 1/186) الباب السادس فی زکاة الزرع والشمار)

    البتہ جب پودے بڑے اور عام منفعت کے لائق ہوگئے تو عشری زمین میں ہونے کی صورت میں وجوبِ عشر کی شرائط پائے جانے پر عشر واجب ہوگا۔

    (۳، ۴) شاخ اور جڑ جو گملوں میں لگائے گئے یہ اصل پھول کے پودوں کا حصہ ہیں جو کہ مال تجارت تھے پس یہ بھی مال تجارت رہیں گے اور حسب شرائط زکاة اس میں واجب ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند