• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 601349

    عنوان:

    كیا سارے بنو ہاشم پر زكاۃ حرام ہے یا اس میں كچھ تفصیل ہے؟

    سوال:

    کیا سارے بنی ہاشم پر زکات حرام ہے؟ / سید کسے کہتے ہیں؟ سوال 1۔ میرا سوال یہ ہے کہ جو بنو ہاشم ہیں اور بنو ہاشم کے ذیلی قبائل ہیں ان پر صدقہ یا زکوٰة لگتا ہے یا نہیں؟ جیسا کہ حضرت جعفر حضرت عباس بن عبدالمطلب حضرت عقیل بن ابو طالب اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولادیں ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک اولاد وہ ہے جو نواسہ رسول سے چلی اور باقی دیگر تین غیر فاطمی بیٹوں سے چلی ہے جو علوی یا اعوانِ قطب شاہی کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی یہ مسئلہ بتادیں کے تمام اولادِ ہاشم جو مسلمان ہیں ان پر زکوٰة لگتی ہے یا نہیں؟

    2۔ تمام بنو ہاشم یا تمام اولادِ علی کے لیے سید لقب کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 601349

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:239-256/N=5/1442

     (۱): بنو ہاشم میں صرف حضرت عباس، حضرت حارث، حضرت علی، حضرت جعفر اور حضرت عقیل اور ان کی اولاد کے لیے زکوة حرام ہے، اوروں کے لیے نہیں؛ لہٰذا دیگر بنو ہاشم اور ان کی اولاد اگر مسلمان ہو اور صاحب نصاب نہ ہو تو اُسے زکوة دی جاسکتی ہے۔

    (۲): بنو ہاشم میں جن پر زکوة حرام ہے، وہ سب اگرچہ لغةً واحتراماً سید ہیں؛ لیکن اصطلاح اور عرف میں سید کا لفظ بنو فاطمہ کے لیے خاص ہوگیا ہے؛ لہٰذا دوسروں پر لفظ سید کا اطلاق نہیں کرنا چاہیے (کفایت المفتی جدید، ۱: ۲۶۴، جواب: ۲۷۵، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند