• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 600808

    عنوان: کیا ایسے مدرسے میں زکاة دے سکتے ہیں جہاں طلبہ کے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام نہ ہو؟

    سوال:

    کیا ایسے مدرسے میں زکاة دے سکتے ہیں جہاں طلبہ کے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام نہ ہو ، میرے ایک جاننے والے مدرسے سے فارغ ہونے کے بعداپنے گاؤں میں بچوں کو پڑھانے لگے، لیکن گاؤں کے بچے فیس وغیرہ نہیں دے سکتے ہیں، تو میں یا میرا بھائی ہر ماہ ان کو دس ہزار بھیجتا ہے، تاکہ ان کا گذارا ہوجائے، اور مدرسہ بھی چلتا رہے، تو کیا اس صورت میں زکاة ادا ہوجائے گی؟

    جواب نمبر: 600808

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 120-97/D=03/1442

     زکاة کی رقم غرباء مساکین کو مالک بناکر دینا ضروری ہے جن مدرسوں میں غریب طلبہ کی رہائش ہوتی ہے ان کے کھانے کپڑے وغیرہ میں بھی مالک بناکر خرچ کرسکتے ہیں۔ اساتذہ کی تنخواہ زکاة کی رقم سے نہیں دی جاسکتی اس سے زکاة ادا نہ ہوگی۔ غریب طلبہ خواہ مقامی ہوں انھیں بطور وظیفہ دیدیا جائے پھر وہ مدرسہ میں فیس کے طور پر دیدیں اس سے استاد کی تنخواہ دی جاسکتی ہے۔ ان سب باتوں کا حاصل یہ ہے کہ زکاة کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ غریب مستحق زکاة کو مالک بناکر رقم دی جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند