• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 59978

    عنوان: فلیٹوں پر زكاۃ ہے یا نہیں؟

    سوال: میں سعودی عربیہ میں کام کرتاہوں، میری فیملی ہندوستان میں ہے، مجھے چار لڑکے ہیں، میں نے ایک فلیٹ خریدا تھا اور اس میں میری فیملی رہتی تھی ، پھر جب میرے پاس کچھ اور پیسے آئے تو میں نے ایک بڑا فلیٹ خریدا اور میری فیملی وہاں منتقل ہوگئی اور پرانا فلیٹ کرایہ پہ دیدیا ، اس کا کرایہ استعمال میں لینے لگا پھر ایک چھوٹا سا فلیٹ بھی بک رہا تھا، اسے میں نے لے کر کرایہ پہ دیدیا اور اس کاکرایہ ہماری والدہ کو ان کے خرچے کے لیے دیدیتے ہیں ، ابھی میں نے یہ سوچ کر کہ میں کبھی بھی سعودی سے واپس آسکتا ہوں اور یہاں آنے پہ کچھ آمدنی ہونی چاہئے ، اس کے علاوہ ایک اور فلیٹ ہوگا تو چار بچوں کے چار فلیٹ ہو جائیں گے، اس لئے ایک اور فلیٹ خرید لیا ،اور اسے خرید تے وقت ایسے علاقے میں خریدا کہ اگر کبھی فلیٹ بیچ دوں تو اچھی قیمت آئے اور جب تک اس کو کرایہ پر دوں گا( ابھی کرایہ شروع نہیں ہوا) ۔ میری بیوی کے پاس جو سونا ہے ، ہم اس کی پابندی سے زکاةدیتے ہیں۔ اب آپ براہ کرم، بتائیں کہ ان فلیٹوں میں زکاة کتنی فلیٹ پر لاگو ہوگی؟

    جواب نمبر: 59978

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 922-187/D=9/1436-U فلیٹ نمبر ۱، نمبر۲، نمبر۳، پر زکاة نہیں ہے۔ فلیٹ نمبر۱ اور نمبر۳ کے کرایہ کی آمدنی اگر بچت میں محفوظ رہ جاتی ہے تو نصاب کا سال پورا ہونے پر نقد میں شامل ہوکر اس اعتبار سے زکاة واجب ہوگی، ان فلیٹوں کی قیمت پر زکاة واجب نہیں۔ البتہ فلیٹ نمبر۴، خریدتے وقت ہی اگر یہ نیت تھی کہ اسے فروخت کرکے نفع حاصل کرنا ہے یعنی مقصد تجارت تھی تو ہرسال اس کی موجودہ قیمت پر زکاة واجب ہوگی، لیکن بظاہر آپ کی نیت سے تجارت کرنا مقصد نہیں معلوم ہوتا بلکہ صرف احتمال کے درجہ میں ہے کہ اگر قیمت اچھی مل گئی تو فروخت کردیں گے اگر ایسا ہی ہے تو اس کی قیمت پر زکاة واجب نہیں ہے، ہاں جب کرایہ پر دیدیں گے اور کرایہ کی آمدنی نقد کی شکل میں محفوظ رہی تو نصاب کا سال پورا ہونے پر نقد کے اعتبار سے زکاة واجب ہوگی۔ بیوی کے زیورات کی زکاة بیوی پر واجب ہے، اگر آپ اس کی طرف سے ادا کردیتے ہیں تو یہ آپ کا تبرع ہے، اسے بتلاکر ادا کیا کریں کہ تمھاری زکاة اتنی ہوئی میں اسے ادا کردے رہا ہوں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند