• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 59862

    عنوان: زکاۃوصدقات

    سوال: اللہ رب العزت آپ کو اجر عطا فرماے ۔ سائل بحوالہ فتویٰ نمبر59506 مزید تفصیل عرض کر کے وضاحت کی درخواست کرتا ھے ۔ اگر والد صاحب کے کل ترکہ میں طالب علم کو، جوکہ بیرون ملک زیرِ تعلیم ھے ، مشترکہ مکان میں ایک کمرہ بمعہ صحن کے رھائش اور باقی املاک میں(2 کراے کے مکان اور ایک ٹکڑا زمین)، جوکہ ابھی تک مشترک ھے ، تقریباٰ ۳۴۰۰۰۰ روپے کی مالیت کا حقدار ھے ۔ طالب علم کی کوئی ذاتی امدنی نہیں ہے ،نہ ضرورت سے زیادہ سامان، نہ سونا نہ چاندی۔ طالب علم کی تعلیم کا دورانیہ ۵ سال ہے ۔ جو کہ اب تیسرا سال ہے ۔ سالانہ تعلیمی اخراجات تقریبا ۲۵۰۰۰۰ہے (کم از کم) ۔ اس صورت میں کیا طالب بیرونِ ملک رہتے ہوئے کیا زکاة کے پیسے لے سکتا ہے ؟ جو مختلف ادارے طباء کودیتے ہیں ۔2 اگرزکاة لے سکتا ہے تو کیا اپنے بھائی بھی اسکو زکاة دے سکتا ہے ؟

    جواب نمبر: 59862

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 575-540/Sn=8/1436-U صورت مسئولہ میں رہائشی کمرہ ، کرایہ پر دیئے ہوئے مکانات، اس طرح زمین کا ٹکڑا بشرطے کہ اس میں کاشت کی جاتی ہو، یہ چیزیں حاجت اصلیہ میں داخل ہیں، ان کی وجہ سے آپ کا بھائی صاحب نصاب نہ بنے گا، ان کے علاوہ اگر اس کے پاس اتنا نقد روپیہ زیور یا زائد از ضرورت سامان نہیں ہے جس کی (ہرایک کی مستقلاً یا مجموعے کی) مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی (۶۱۲/ گرام ۳۰۸/ ملی گرام) کی مالیت کو بہنچے تو اس کے لیے امدادی اداروں سے اپنے ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے زکاة کی رقم لینے کی گنجائش ہے، نیز آپ حضرات بھی اسے زکاة کی رقم دے سکتے ہیں۔ ویجوز دفعہا إلی من یملک أقل من النصاب وإن کان صحیحًا مکتسبًا کذا في الزاہدي (الفتاوی الہندیة: ۱/۱۸۸، زکریا) وفیہا قبل أسطر: والشرط أن یکون فاضلاً عن حاجتہ الأصلیة وہي مسکنہ وأثاث منزلہ وثیابہ وخادمہ إلخ، وانظر رد المحتار علی الدر المختار (۳/۲۸۳، ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند