• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 58343

    عنوان: میرا ملک ڈیری فارم (milk dairy farm)ہے ۔میرے پاس ۲۹ گائے اور چار بچھرے ہیں، ہر ی گاس کے لیے میرے پاس زمین نہیں ہے، تمام گھاس خرید تا ہوں، جانوروں کو چرنے کے لیے نہیں بھیجتا ہوں، فارم میں ہی جانورں کو چارا دیا جاتاہے ۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا ان جانورں پر زکاة ہوگی؟

    سوال: (۱) میرا ملک ڈیری فارم (milk dairy farm)ہے ۔میرے پاس ۲۹ گائے اور چار بچھرے ہیں، ہر ی گاس کے لیے میرے پاس زمین نہیں ہے، تمام گھاس خرید تا ہوں، جانوروں کو چرنے کے لیے نہیں بھیجتا ہوں، فارم میں ہی جانورں کو چارا دیا جاتاہے ۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا ان جانورں پر زکاة ہوگی؟ (۲) گندم ، مکھئی، اور دوسرے اناج کو شراب فیکٹری میں شراب بنانے کے لیے استعمال کیا جاتاہے، شراب کشید کرنے کے بعد کشید شدہ شراب (گندم ،مکھئی )کو مارکیٹ میں گائے کیچارے کے طورپر بیچا جاتاہے تو کیا مارکیٹ سے اس طرح کے چارے کو خریدنا حلال ہے؟ (۳) افزائش نسل کے لیے میرے پاس ایک سانڈ ہے۔ہر گائے پر ۱۰۰ روپئے لیتا ہوں ، کیا اس کو انکم کے طور پر استعمال کرنا حلال ہے؟

    جواب نمبر: 58343

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 386-386/Sd=7/1436-U (۱) اگر مذکورہ جانور تجارت کے لیے نہیں ہیں تو شرعاً ان پر زکاة واجب نہیں ہے، قال الحصکفي: نصاب البقر والجاموس- ثلاثون سائمة غیر مشترکة- قال ابن عابدین: فلو علوفة، فلا زکاةَ فیہا إلا إذا کانت للتجارة، فلا یعتبر فیہا العدد؛ بل القیمة- إلخ (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۱۱۸، کتاب الزکاة، باب زکاة البقر، ط: دار إحیاء التراث العربي، وکذا في الہندیة: ۱/۲۳۸) (۲) شراب کشید کرنے کے بعد بچے ہوئے گندم، مکئی اور دوسرے اناج کو گائے کے چارے کے لیے خریدنا جائز ہے۔ واضح رہے کہ ان اشیاء کو شراب فیکٹری میں شراب بنانے کے لیے دینا جائز نہیں ہے، کل ما ینتفع بہ فجائز بیعہ والإجارة علیہ - وقال الحصکفي: والحاصل وأن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۶۹، باب البیع الفاسد) (۳) افزائش نسل کے لیے سانڈ کو اجرت پر دینا جائز نہیں ہے۔ عن ابن عمر رضي اللہ عنہما قال: نہی النبي صلی اللہ عیہ وسلم عن عسب الفحل․ (البخاري، کتبا الإجارات، باب عسب الفحل) وقال الحصکفي: لا تصح الإجارة لعسب التیس، وہو نزوہ علی الإناث؛ لأنہ مل لا یقدر علیہ وہو الإحبال (الدر المختار مع رد المحتار: ۶/۵۶-۵۷، باب الإجارة الفاسدة، وکذا في الفتاوی الہندیة: ۴/۴۵۴، الباب الخامس عشر في بیان ما یجوز من الإجارة وما لا یجوز)․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند