• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 57777

    عنوان: اپنی بھانجی کے نکاح میں کھانے پر جو اسی ہزار روپئے خرچ کیے كیا وہ زكاۃ میں شمار ہوسكتے ہیں؟

    سوال: 2012 میں میں اپنی بہن کی بیٹی کے نکاح میں کھانے پر 80,000 روپئے خرچ کئے ، وہ غریب ہیں، میں ہمیشہ ان کی مدد کرنے کے لیے کچن سے لے کر اسکول تک کے تمام اخراجات کے لیے زکاة کے پیسے دیتاہوں، لیکن ممبئی میں ہونے کی وجہ سے اور نیز روزانہ کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے میں جو زکاة کی رقم دیتاہوں تو وہ ناکافی ہوتی ہے، اورمیرے لیے زکاة کی رقم کے علاوہ مزید کچھ دینا بھی بہت مشکل ہے؟اس لیے کیا 80,000 روپئے میں سے 50,000 کو زکاة کی رقم سمجھ کر سال رواں کی زکاة ادا سمجھ لوں؟ واضح رہے کہ اس کھانے میں ہم سبھی موجود تھے جو غریب نہیں تھے، تو کیا میں 30,000 روپئے کھانے کے نام گھٹالوں جو ہمارے کھانے کی رقم سے دس گناہ زیادہ ہے۔ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 57777

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 359-363/N=5/1436-U

    آپ نے اپنی بھانجی کے نکاح میں کھانے پر جو اسی ہزار روپئے خرچ کیے، اب آپ ان میں یا اُن میں سے پچاس ہزار روپے میں زکاة کی نیت نہیں کرسکتے؛ کیونکہ زکاة کی نیت درست ہونے کے لیے مال کا کم از کم فقیر کی ملکیت میں باقی رہنا ضروری ہے، وشرط صحة أدائہا نیة مقارنة لہ أي: للأداء ولو کانت المقارنة حکمًا کما لو دفع بلا نیة ثم نوی والمال قائم في ید الفقیر الخ (در مختار مع الشامي: ۳/۱۸۷ مطبوعہ مکتبہ زکریا دیوبند) قولہ: ”والمال قائم في ید الفقیر“ بخلاف ما إذا نوی بعد ہلاکہ بحر، وظاہرہ أن المراد بقیامہ في ید الفقیر بقاوٴہ في ملکہ لا الید الحقیقیة وأن النیة تجزئہ ما دام في ملک الفقیر ولو بعد أیام (شامی)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند