• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 57273

    عنوان: زكاة كی رقم اگر رشوت میں دیدی تو اب كیا كریں

    سوال: (۱) میں نے اپنی سال 2010کی زکوة کی رقم کو اپنے مکان کو رجسٹری آفس ، انڈیا میں رجسٹرڈ کرانے کے لیے خرچ کردیا، اور غریبوں اور محتاجوں کو وہ پیسہ دینے کے بجائے میں نے خود استعمال کرلیا اور اپنا مکان رجسٹرڈ کروایا۔ یہ رقم تقریباً 75000روپئے تھی اس میں رشوت بھی شامل تھی۔ براہ کرم بتائیں کہ اب میں کیا کروں؟ (۲) دوسری چیز سود کے پیسوں کے تعلق سے ہے جو مجھ کو انڈین بینک سے ملی تھی، میں نے سود کے پیسوں کو سعودی عربیہ میں اپنی فیملی کا ویزا حاصل کرنے کے لیے خرچ کرلیا ۔ اور یہاں فیملی ویزا حاصل کرنے کے لیے میں نے رشوت دی اور ویزا حاصل کیا۔ اور میں نے کچھ مزید رقم جعلی کمپیوٹر پروگرامنگ سرٹیفکٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا اس کے لیے بھی میں نے رشوت دی۔ براہ کرم مجھ کو بتائیں کہ اب میں کیا کروں۔ مزید میں نے سود کے پیسوں سے ہاوٴس ٹیکس ادا کئے۔ میرے اوپر یقین رکھیں کہ میں سود سے دلی نفرت کرتا ہوں لیکن کسی وجہ سے میں نے اس کو استعمال کرلیا غلط چیزوں کے لیے اور رشوت اور ٹیکس کے لیے۔ براہ کرم میرے سوال کا جواب دیں کیوں کہ مجھ کو احساس جرم ہے کہ میں نے یہ سب کیا۔ میں نہیں چاہتا کہ اللہ تعالی مجھے اس دنیا میں یا آخرت میں اس کی سزا دیں۔

    جواب نمبر: 57273

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 305-301/L=3/1436-U (۱) ۲۰۱۰

    میں جتنی رقم بطور زکاة نکالنا آپ پر واجب تھا اتنی رقم دوبارہ نکال کر مستحق زکاة لوگوں کو دیدیں، آپ کا ذمہ بری ہوجائے گا۔ (۲) سود کی رقم کا حکم یہ ہے کہ اس کو بلانیت ثواب فقراء مساکین وغیرہ پر صدقہ کردیا جائے، اگر آپ نے سودی رقم خود استعمال کرلی ہے یا رشوت میں دی ہو تو اتنی رقم فقرا وغیرہ پر صدقہ کردیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند