• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 57099

    عنوان: میری بہن کے شوہر کی ماہانہ تنخواہ 15000 پاکستانی روپئے ہے، اور کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے، کیا میں بہن کو زکاة دے سکتاہوں؟اس کے پاس پانچ چھ تولہ سوناہے۔

    سوال: (۱) میرا سوال یہ ہے کہ میں صاحب نصاب ہوں،مجھ سے بڑے ایک بھائی اور مجھ سے چھوٹے چار بھائی ہیں، میں گھر کا سارا خرچ دیتاہوں، بڑے بھائی کی ماہانہ تنخواہ 10,000 پاکستانی روپئے ہے ، ان کاایک بیٹا اور ایک بیوی ہے، ان کی بیوی کے پاس سات تولہ سوناہے ، لیکن میرے بھائی کے پاس کوئی دکان نہیں ہے، نہ کوئی گاڑی ہے اور نہ کوئی بینک اکاؤنٹ اور نہ ہی اس میں کوئی پیسہ ہے تو کیا میں اپنے بھائی کو زکاة کی رقم دے سکتاہوں؟ (۲) دوسری بات یہ ہے کہ میری ایک چچی ہیں ، ان کے شوہر بیمار ہیں اور کام نہیں کررہے ہیں، ان کا بیٹا ایک موبائل کی دکان میں کام کررہا ہے اور ہرہفتہ 1000 اور روزانہ 100پاکستانی روپئے مل رہے ہیں ان کا ایک چھوٹا گھر ہے جسے انہوں نے کرایہ پر دیا ہے جس کا ماہانہ کرایہ 3000 روپئے ہے۔ان کا اور کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔کیا میں اپنی چچی کو بھی زکاة کی رقم دے سکتاہوں؟ (۳) میری بہن کے شوہر کی ماہانہ تنخواہ 15000 پاکستانی روپئے ہے، اور کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے، کیا میں بہن کو زکاة دے سکتاہوں؟اس کے پاس پانچ چھ تولہ سوناہے۔ (۴)میں بیرون ملک کام کرتاہوں اور ماہ شعبان میں زکاة ادا کرتاہوں، کیا میں رمضان یا رمضان کے بعد زکاة ادا کرسکتاہوں؟

    جواب نمبر: 57099

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 168-134/Sn=3/1436-U (۱) آپ کی بھابھی کے پاس جو سونا ہے، اگر وہ خالص انھیں کی ملک ہے تو اگر واقعةً آپ کے بھائی کے پاس بقدر نصاب سونا، چاندی، نقد رقم،مالِ تجارت یا حوائج اصلیہ سے زائد گھریلو اثاثہ نہیں ہے جیسا کہ آپ کے سوال سے اندازہ ہوتا ہے تو آپ کے بھائی مصرفِ زکاة ہیں، آپ انھیں زکاة کی رقم دے سکتے ہیں؛ لیکن اگر ماہانہ آمدنی سے ان کا گزر بسر ہوجاتا ہے، تنگی نہیں رہتی، نیز وہ مقروض بھی نہیں ہیں تو پھر آپ کے لیے بہتر ہے کہ اپنی زکاة ان کے بجائے دیگر لٹے پٹے، غریب لوگوں کودیں، یہ زیادہ باعث اجر وثواب ہوگا۔ ان شاء اللہ (۲) اگر آپ کے چچا اور چچی مستحق زکاة ہیں یعنی ان کے پاس بقدر نصاب (۶۱۲/ گرام ۳۶۰ ملی گرام چاندی یا ساڑھے ۸/ گرام سونا) سرمایہ نہیں ہے (جس کی تفصیل سوال نمبر ایک کے جواب میں گزری) تو انہیں بھی اپنی زکاة دے سکتے ہیں۔ (۳) آپ نے لکھا کہ آپ کی بہن کے پاس پانچ چھ تولہ سونا ہے، اگر اس کے ساتھ تھوڑا بہت چاندی یا کچھ نقد رقم یا مالِ تجارت یا حوائج اصلیہ سے زائد سامان وغیرہ ہے تو پھر آپ کی بہن صاحب نصاب بن جائیں گی، ایسی صورت میں آپ انھیں زکاة نہیں دے سکتے؛ لہٰذا آپ تحقیق کرلیں، اگر مذکورہ بالا معیار کے مطابق وہ صاحب نصاب بن جاتی ہیں تو ان کو زکاة نہ دیں ورنہ دے سکتے ہیں؛ لیکن یہاں بھی بہتر یہ ہے کہ اگر ماہانہ آمدنی سے مناسب گزربسر ہورہا ہے کوئی زیادہ تنگی نہیں ہے تو پھر بہن، بہنوئی کے بجائے دوسرے لوگوں کو زکاة دینا زیادہ باعث اجر وثواب ہوگا، اگر انھیں تنگی ہے یا مقروض ہیں تو پھر انہی کو دینے میں زیادہ اجر وثواب ہے: والأفضل في الزکاة والفطر والنذر والصّرفُ أولاً إلی الإخوة والأخوات ثم إلی أولادہم إلخ (۱/۱۹۰، ہندیہ، ط: زکریا) (۴) کرسکتے ہیں؛ البتہ بہتر یہ ہے کہ آپ ماہِ شعبان میں حسب معمول حساب کرکے جتنی رقم زکاة کی واجب الادا ہوتی ہے، اسے الگ رکھ دیں، پھر موقع بہ موقع رمضان، شوال میں خرچ کرتے رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند