• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 56810

    عنوان: جب سے میری شادی ہوئی ہے، ایک دو سال کے علاوہ میں مستقل قرض میں ہوں، لیکن میری بیوی کے پاس کم سے کم بیس تولہ سونا ہے، میں اگر زکاة دینا چاہتاہوں تو میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ ہم مقروض ہیں تو ہم پر زکاة فرض نہیں ہے ۔

    سوال: میری شادی کو آٹھ سال ہوچکے ہیں، لیکن جب سے میری شادی ہوئی ہے، ایک دو سال کے علاوہ میں مستقل قرض میں ہوں، لیکن میری بیوی کے پاس کم سے کم بیس تولہ سونا ہے، میں اگر زکاة دینا چاہتاہوں تو میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ ہم مقروض ہیں تو ہم پر زکاة فرض نہیں ہے ۔ ایک بات اور کہ میرا اور میرے والد صاحب کا کاروبار ایک ہی جگہ ہوتاہے ، ابھی بھی ہمارے اوپر کافی قرض ہے ۔ براہ کرم، بتائیں کہ میرے اوپر زکاة کا کیاحکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 56810

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 132-132/M=2/1436-U بیوی اگر صاحب نصاب ہے تو بیوی پر زکاة فرض ہے، بیوی خود اپنے مال کی زکاة نکالے یا آپ بیوی کی اجازت سے اس کے مال کی زکاة ادا کردیں، دونوں طریقے درست ہیں، آپ اگر مقروض ہیں اور آپکے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد اور حاجت اصلیہ کا خرچ نکال لینے کے بعد نصاب کے بقدر مال بچے تو ایسی صورت میں آپ پر زکاة واجب نہیں ہے۔ ================== البتہ بیوی پر اس کے مال کی زکاة واجب ہوگی۔ (د)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند