• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 55459

    عنوان: طلبہ کا حضرت مہتمم صاحب یا ان کے قائمقام کو وصولِ زکات اور مصارفِ زکات و دیگر صدقہ واجبہ کا وکیل بنانا

    سوال: سلام و تحیہ کے بعد عرض خدمت یہ ہے کہ ہم اپنے مدرسہ کی بنیاد ڈالنے میں دار العلوم کی اتباع کئے ہے ، مگر فارم میں ایک شبہ کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ: میں حضرت مہتمم صاحب یا ان کے قائم مقام کو اپنی طرف سے زکات وصول کرنے کا بھی وکیل بناتا ہوں ۔ اور اپنی ضروریات میں خرچ کرنے کا بھی وکیل بناتا ہوں ، نیز رہائش وغیرہ کے مصارف میں بھی صرف کرنے کے حضرت مہتمم صاحب مجاز ہوں گے ۔ دستخط طالب علم مؤرخہ سوال یہ ہے کہ : داخلہ لینے والے طلبہ نے حضرت مہتمم صاحب یا ان کے قائمقام کو ان کی طرف سے وصول ِ زکات کا وکیل اور مصرف متعین کرنے کا بھی وکیل بنا دیا، لہذا اس پر دستخط کرنے کے بعد کیا اموالِ زکات اور دیگر صدقات واجبہ کو دوبارہ تملیک کرنے کی ضرورت ہوگی یا نہیں یا بغیر تملیک کے یہ اموال بچوں کے ضروریات ، رہائش، تعمیرات وغیرہ میں استعمال کر سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 55459

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1944-1658/B=12/1435-U فارم کے مسئلہ میں آپ کا شبہ صحیح ہے، حضرت مہتمم صاحب خود اس مسئلہ میں مذبذب میں ہیں، اس مسئلہ کو ہمارے یہاں دارالافتاء میں آخری فیصلہ کے لیے بھیجا ہے۔ ان شاء اللہ ایک دو ماہ میں یہاں سے فائنل ہوکر اہتمام میں چلا جائے گا۔ مہتمم طلبہ کا وکیل ہوتا ہے بایں معنی کہ وہ رقم چندہ دہندگان کی ملکیت سے نکل گئی اور اس کی زکاة ادا ہوگئی، لیکن مہتمم ان رقوم پر قابض ہنے کے بعد امین کی حیثیت سے ہوتا ہے اس کا فرض یہ ہے کہ صحیح طور پر طلبہ سے یا کسی غریب سے تملیک کرانے کے بعد زکاة کی رقوم دوسری مدات میں خرچ کرے،تملیک کرانا بہرحال مہتمم کے لیے ضروری ہے، محض فارم پر مذکورہ عبارت لکھ دینے سے تملیک نہ ہوگی۔ دو ماہ کے بعد آپ ہمارا فیصلہ معلوم کرلیجے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند