• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 54603

    عنوان: تنخواہ سے جتنی رقم ہرمہینے جبری اور غیر اختیاری طور پر کٹ جاتی ہے او رملازم کے فنڈ میں جمع ہوجاتی ہے اس کٹی ہوئی رقم دوران ملازمت زكاة كا كیا حكم ہے؟

    سوال: (۱) میں سرکاری ملازم ہوں اور میری تنخواہ 38000 روپئے ہے، جس میں سے بہت طرح کے الاؤنس (سفر اخراجات) ملتے ہیں اور کٹتے بھی۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ زکاة اصل ادائیگی جو کہ 14500 روپئے ہے اس پر دی جائے یا پھر کل یافت تنخواہ جو کہ 38000 اس پر دی جائے؟ (۲) میری تنخواہ سے ہرمہینے تقریبا ً 4000 کٹ جاتے ہیں ، پینشن (نئی اپنشن اسکیم) کے لیے ، لیکن اس پینشن کے تحت ہم اپنی ضرورت پر اپنے پیسے کا استعمال نہیں کرسکتے، اس پیسہ کا حکومت کیا کرتی ہے کچھ پتا نہیں، کیا اس پیسے پر بھی زکاة واجب ہے جس کا اس وقت میں ہم کوکوئی منافع نہیں مل رہا ہے؟ آ پ سے گذار ش ہے کہ رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 54603

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1278-1278/M=11/1435-U تنخواہ سے جتنی رقم ہرمہینے جبری اور غیر اختیاری طور پر کٹ جاتی ہے او رملازم کے فنڈ میں جمع ہوجاتی ہے اس کٹی ہوئی رقم پر دورانِ ملازمت زکاة نہیں ہے جب ریٹائرمنٹ کے بعد وہ رقم ملے گی اس وقت حسب شرط واجب ہوگی، جبری کٹی ہوئی رقم کو چھوڑکر ہرمہینے جتنی تنخواہ ملتی ہے اور وہ پوری تنخواہ بچ جاتی ہے تو تاریخ زکاة میں جتنی رقم پاس میں موجود ہوگی سب کو جوڑکر اس کا چالیسواں حصہ نکالنا واجب ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند