• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 54483

    عنوان: سال بھر کم سے کم نصاب برقرار رہنے سے کیا مراد ہے؟

    سوال: مجھے زکاة کے حوالے سے چند مسائل دریافت کرنے ہیں۔ (۱) میری زوجہ کے پاس تقریباس سات تولہ سونا ہے ، ان کی اپنی کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے، میں انہیں ماہانہ تقریبا ً4000 روپئے دیتاہوں جس میں سے 2000 روپئے وہ کمیٹی میں حصہ ڈالتی ہیں اور باقی دو ہزار چند دنوں میں یا ایک دو ہفتے میں خرچ کر جاتی ہے اور اس طرح ان کی کوئی سیونگ نہیں ہے، دیگر اخراجات کے لیے میں انہیں جب ضرورت ہوتی ہے پیسے دیتا رہتاہوں اور وہ ان پیسوں سے ضرورت کے مطابق اپنے لیے یا فیملی کے لیے مارکیٹ سے چیزیں خرید لاتی ہیں اور اس طرح وہ پیسے بھی ان کے پاس صرف چند گھنٹوں کے لیے رہتے ہیں ، جو کہ اصل میں میرے ہوتے ہیں، کیا میری زوجہ پر زکاة فرض ہے ؟ (۲) سال بھر کم سے کم نصاب برقرار رہنے سے کیا مراد ہے؟ ایک شخص․․ فرض کریں․․․ پانچ رمضان کو صاحب نصاب ہوجاتاہے اور اگلے سال پانچ رمضان کو اس کے پاس نصاب کے بقدر پیسے نہ ہوں ، لیکن وہ چار رمضان کو بھی صاحب نصاب ہو اور چھ یا سات رمضان کو بھی تو اس پرزکاة ہے؟

    جواب نمبر: 54483

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1308-448/L=10/1435-U (۱) اگر کمیٹی والے روپے آپ کی اہلیہ کے ہیں یعنی آپ ان کو دے کر مالک بنادیتے ہیں تو آپ کی اہلیہ پر زکاة فرض ہوگی اور اگر مکمل روپے آپ کے ہوتے ہیں اہلیہ کے پاس نقدی روپے بالکل بھی نہیں ہیں، تو اہلیہ پر زکاة فرض نہ ہوگی۔ (۲) جس دن آدمی صاحب نصاب بنا ہو اور جس دن اس پر سال مکمل ہورہا ہو اس دن صاحب نصاب ہونا وجوب زکاة کے لیے ضروری ہے، بیچ میں صاحب نصاب نہ ہونا مضر نہیں، پس اگر کوئی شخص سال مکمل ہونے والے دن صاحب نصاب نہ ہو خواہ ایک دن پہلے یا بعد میں صاحب نصاب ہوجائے تو اس پر زکاة واجب نہیں؛ البتہ زکاة کے سقوط کے لیے کوئی ایسا حیلہ کرنا کہ آدمی عین سال مکمل ہونے کے دن صاحب نصاب نہ رہے مکروہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند