• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 54413

    عنوان: زكاة لے كر قرض ادا كرنا

    سوال: میری عمر ۶۶ سال ہے، میری ایک بیوی ، تین بیٹے اورتین بیٹیاں ہیں، میں سعودی عرب میں کام کررہا ہوں، میری ملازمت ختم ہوگئی اور ۲۰۰۰ میں ہندوستان واپس آیا ۔ اپنی فیملی کی کفالت کرنے اور بچوں کی تعلیم کے لیے میں نے کچھ رشتہ داروں سے لون /قرض لیا (ٹوٹل آٹھ لاکھ روپئے)۔ اس عرصے میں میں ایک بھی روپیہ کما نہیں سکا ۔ اپنی زمین اور مکان بیچ کر دو بیٹیوں کی شادی کرائی ، میری بیوی اپنا سونا بیچ کو زکاة ادا کررہی ہے ، میرے دو بیٹے پیسے بھیج رہے ہیں جو زندگی چلانے کے لیے بس کافی ہے ، میں نے ان کو کہا ہے کہ تم لوگ میرا قرض ادا کردو مگر وہ نظر انداز کرجاتے ہیں، میرے پاس کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے ، کوئی بینک بیلنس نہیں ہے، اور نہ کوئی جائداد ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کیا میں زکاة لے سکتاہوں اور اپنا قرض ادا کرسکتاہوں؟

    جواب نمبر: 54413

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1276-858/L=10/1435-U جی ہاں! آپ ایسی مجبوری کی صورت میں زکاة لے کر اپنا قرض ادا کرسکتے ہیں، البتہ آپ کی بیوی اپنی زکاة آپ کو کسی حال میں نہیں دے سکتی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند