• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 54265

    عنوان: میرے پاس ایک رہائشی پلاٹ ہے جسے دس سال پہلے اپنی سیونگ سے سرمایہ کاری کے نام پرخریدا تھا ، اس کی قیمت بڑھتی گئی اور ہر سال مارکیٹ کی قیمت کے حساب سے اس پلاٹ کی زکاةد یتا آیا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال مارکیٹ کے ریٹ کے حساب سے زکاة دینا ہوگی یا سال کے آخر میں صرف اضافہ شدہ رقم پر زکاة دینا ہوگی؟

    سوال: میرے پاس ایک رہائشی پلاٹ ہے جسے دس سال پہلے اپنی سیونگ سے سرمایہ کاری کے نام پرخریدا تھا ، اس کی قیمت بڑھتی گئی اور ہر سال مارکیٹ کی قیمت کے حساب سے اس پلاٹ کی زکاةد یتا آیا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال مارکیٹ کے ریٹ کے حساب سے زکاة دینا ہوگی یا سال کے آخر میں صرف اضافہ شدہ رقم پر زکاة دینا ہوگی؟ میرے پاس ایک اور پلاٹ ہے جسے میں نے اپنے بیٹوں کے تعلیمی اخراجات کی نیت سے خرید اتھا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے اس پلاٹ کی مارکیٹ کی قیمت کے حساب سے زکاة دینا ہوگی؟جزاک اللہ خیر۔

    جواب نمبر: 54265

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1278-1069/H=10/1435-U ہرسال جو بھی قیمت ہوگی کل قیمت ملحوظ رکھ کر دونوں پلاٹوں کی زکاة واجب ہوگی صرف اضافہ شدہ رقم پر ہی نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند