• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 54220

    عنوان: زکاة پیسے پر کب فرض ہوتی ہے ؟

    سوال: زکاة پیسے پر کب فرض ہوتی ہے ؟ میں ہمیشہ ایک رمضان کو زکاة نکالتاہوں اگر میرے پاس ایک رمضان سے بیس دن پہلے یعنی دس رمضان کو مثلا کے طورپر چار لاکھ اگر کہیں سے آگئے (حلال ذریعہ سے ) تو بیس دن بعد یعنی ایک رمضان کو اس چار لاکھ پر زکاة فرض ہوگی یا نہیں؟یا میں سال پوراہونے پریعنی اگلے سال دس شعبان کو جتنا پیسہ بچ گیا ہے ، اس پر زکاہ نکالوں یا ایک سال بیس دن بعد یعنی اگلے سال کی پہلی رمضان کو جتنا بچے اس پر زکاة نکالوں؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 54220

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1250-1250/M=10/1435-U ہرہررقم پر سال پورا ہونا لازم نہیں، جو مال اور روپیہ درمیان سال میں آجائے اور ادائے زکاة کی تاریخ میں موجود ہو سب کو ملاکر ایک ساتھ زکاة نکالی جائے گی، صورت مسئولہ میں آپ اگر رمضان کی پہلی تاریخ میں زکاة نکالتے ہیں اور بیس دن پہلے یعنی ۱۰/ شعبان میں آپ کے پاس ۴/ لاکھ روپئے آجاتے ہیں تو پہلی رمضان میں ان چار لاکھ روپیوں کی زکاة بھی نکالنا واجب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند