• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 51741

    عنوان: كیا اجتماعی صدقہ كا عمل جائز ہے؟

    سوال: کچھ عرصہ قبل ہمارے یہاں اموات کی کچھ کثرت ہوئی جن میں حادثاتی اورطبعی اموات شامل ہیں جس کی روک تھام کے لیے محلے کے کچھ نوجوانوں نے اجتماعی صدقے کا اہتمام کیا ، گلی گلی گھوم کر پیسے جمع کیا اور جو رقم جمع ہوئی اس سے کچھ گائیں خرید کر ذبح کی گئیں اور لوگوں میں گوشت تقسیم کیاگیا: (۱) میرا سوال یہ ہے کہ کیا اجتماعی صدقہ کا یہ عمل جائز ہے؟ کیوں کہ صدقہ تو خفیہ دینا چاہئے؟ (۲) گر اجتماعی صدقہ کا عمل جائزہے تو براہ کرم، کتاب وسنت سے رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 51741

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 745-615/B=5/1435-U اجتماعی صدقہ کا یہ عمل قرآن وحدیث یا زمانہٴ خیرالقرون سے ثابت نہیں، صدقہ کرنے کے لیے گلی گلی گھومنا اور اس کے لیے چندہ مانگنا یہ بھی درست نہیں، پھر صدقہ کرنے کے لیے جانور ذبح کرنا یہ بداعتقادی کی بات ہے،عوام یہ سمجھتے ہیں کہ جان کا صدقہ جان سے ہی کرنا ضروری ہے، یہ ناجائز وغلط عقیدہ ہے، جس کو صدقہ کرنا ہے اپنے طور پر اہل حیثیت کے مطابق خاموشی کے ساتھ غریبوں اورمحتاجوں کو کردے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند