• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 50911

    عنوان: کیا اپنی جان مال کا صدقہ نکال کر مدارس میں دیا جاسکتاہے؟ اور یہ صدقہ دینا جو اپنی مال جان کے لیے نکالا ہے مدراس کو دینے میں کیا یہ صدقہ جاریہ ہوگا؟

    سوال: کیا اپنی جان مال کا صدقہ نکال کر مدارس میں دیا جاسکتاہے؟ اور یہ صدقہ دینا جو اپنی مال جان کے لیے نکالا ہے مدراس کو دینے میں کیا یہ صدقہ جاریہ ہوگا؟

    جواب نمبر: 50911

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 493-513/N=4/1435-U (۱) جی ہاں! جان ومال کا صدقہ مدارِس میں دیا جاسکتا ہے، جائز ہے، البتہ اگر وہ صدقہ واجبہ ہو جیسے زکاة، صدقہ فطر یا نذر مانا ہوا صدقہ وغیرہ تو وہ ایسے مدارس ہی میں دیا جاسکتا ہے جہاں صدقاتِ واجبہ کے مصارف پائے جاتے ہوں اور اہل مدارس ذمہ داری کے ساتھ صدقات واجبہ ان کے مصارف میں صرف کرتے ہوں۔ اور عوام میں جان کے بدلے جان کے طور پر جانور ذبح کرنے کا جو رواج ہے یہ غلط عقیدہ کی بنا پر درست نہیں، ایسا جانور یا اس کا گوشت مدرسہ والوں یا کسی غریب کے لیے قبول کرنا درست نہیں۔ (۲) اگر وہ صدقہ کسی ایسے مصرف میں لگایا گیا جس کا نفع دائمی ہو تو وہ بلاشبہ صدقہ جاریہ ہوگا اور مدارس کے اکثر مصارف اسی قبیل کے ہوتے ہیں کیوں کہ علم کی نشر واشاعت اور امت کی دینی رہنمائی کا سلسلہ شاگرد در شاگرد اور افراد در افراد ایک لمبے عرصہ تک باقی رہنے والا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند