• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 50560

    عنوان: كیا باپ بیٹے كی زكاة نكال سكتا ہے؟

    سوال: میں سافٹویر کمپنی میں کام کرتا ہوں میری سالانہ تنخواہ ۳ لاکھ (۰۰۰۰۰۳) تقریبن ہے اور میرا ۰۰۰۰۱ ہر مہینے کا خرچ ہے اور باقی رقم گھر کے خرچ کے لئے دیتا ہوں جبکی سالانہ میری کوئی بچت نہی ہو پاتی ہے میرا سوال ہے کیا میرے پر زکات فرض ہوئی دوسرا سوال - اگر کوئی اپنی رقم اپنے والد کو دے دیتا ہے تو وہ خود کی زکات نکالے گأ یا والد ہی نکالیگا کیا باپ بیٹے الگ الگ زکات نکال سکتے ہیں جبکی بیٹا ساری رقم گھر والوں پر ہی خرچ کرتا ہے تیسرا سوال- کیا اگر گھر والے سال کا حساب برابر نہی رکھ پاتے تو کیا میں اپنی زکات خود نکال سکتا ہوں اللہ کی پکڑ سے بچنے کے لئے چوتھا سوال - ہم پانچ بھائی ہیں سب ایک میں والد کے سا تھ رہتے ہیں اور میرے بھائی کی اہلیہ بھی ہیں تو زکات ایک بار میں نکلیگی یا بھائی کی اہلیہ اپنے زیورات کی زکات خود نکالنگی یا باپ اکیلا ہی سبکی نکالیگا برائے مہربانی زکات کے سلسلے میں جو سوالات ہیں تفصیل سے واضح کر دیں

    جواب نمبر: 50560

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 586-621/N=5/1435-U (۱) اگر آپ گھر والوں کو انھیں دی ہوئی رقم کا مالک بنادیتے ہیں اور آپ کی ملکیت میں سونا، چاندی یا کرنسی کا نصاب نہیں ہے تو آپ پر زکاة فرض نہیں۔ (۲) اگر بیٹے نے اپنے والد کو دی ہوئی رقم کا مالک بنادیا تو اس کی زکاة کا مسئلہ والد صاحب سے متعلق ہوگا، بیٹے سے نہیں۔ (۳) جب بیٹے نے والد صاحب کو دی ہوئی رقم کا مالک بنادیا تو زکاة کا مسئلہ اس سے وابستہ ہی نہیں رہا، البتہ اگر والد صاحب کی اجازت سے ان کی زکاة اپنی جیب سے نکال دیا کرے تو اس میں کچھ حرج نہیں اور اگر ان کی اجازت کے بغیر ان کی زکاة نکالے گا تو ان کی زکاة ادا نہ ہوگی۔ (۴) ہرشخص اپنی ملکیت کے حساب سے زکاة نکالے گا یعنی جو شخص بھی مالک نصاب ہو اس پر اس کی زکاة واجب ہوگی اور جو مالک نصاب نہ ہو اس پر اس کی یا کسی اور کی زکاة واجب نہیں، شریعت میں ہرشخص کی ملکیت الگ الگ دیکھی جاتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند