• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 48186

    عنوان: دو تولہ سونے پر كیا زكاة ہے؟

    سوال: میری والدہ کے پاس دو تولہ سونا ہے، کیا وہ صاحب نصاب ہوتی ہیں؟ کچھ لوگوں کے خیال میں تو دولہ سونا کی رقم ساڑھے باؤن تولہ چاندی کے برابر ہوتی ہے ، اس وجہ سے وہ صاحب نصاب ہیں، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ اور اگر وہ صاحب نصاب ہیں تو ان کی قربانی کس پر واجب ہے جب کہ ان کے پاس کوئی رقم نہیں ہے ؟ ان کے شوہر پہ یا ان ہی پہ؟اگر ان کے شوہر پہ واجب ہے اور وہ قربانہ کر ے تو کیا قربانی کرنا بیٹے پر واجب ہوجاتاہے؟ جب کہ بیٹا اپنی قربانی بھی کررہا ہے؟ مختصراً یہ کہ والدہ کے پاس رقم ․․․کوئی نہیں ہے، زیورات دوتولہ سونا ہے، بیٹاغیر شادی شدہ ہے اور اس کی ماہانہ آمدنی 19000 پاکستانی روپئے ہے۔

    جواب نمبر: 48186

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1354-1340/N=11/1434-U اگر آپ کی والدہ کے پاس دو تولہ سونے کے علاو ہ کچھ چاندی یا نقد رقم بھی ہے اگرچہ وہ پانچ دس روپے ہی کیوں نہ ہوں تو چاندی کے نصاب کا اعتبار کیا جائے گا اور دو تولہ سونے کی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر یا اس سے زائد ہونے کی صورت میں آپ کی والدہ صاحب نصاب ہوں گی اور ان پر حسب شرائط ایام قربانی میں قربانی اور سال مکمل ہوجانے پر زکاة واجب ہوگی، اور اگر ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے جس سے وہ اپنی قربانی کرسکیں یا زکاة ادا کرسکیں تو سونے کا کچھ حصہ فروخت کرکے قربانی کریں اور زکاة ادا کریں، اس صورت میں بھی ان کی قربانی وزکاة خود ان پر واجب ہوگی، ان کے شوہر یا بیٹے پر واجب نہ ہوگی، ہاں البتہ اگر بیٹا یا شوہر اپنی مرضی وخوشی سے ان کی اجازت سے ان کی طرف سے زکاة دیدیں یا قربانی کردیں تو یہ جائز ہے، ان کی قربانی اور زکاة ادا ہوجائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند