• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 47266

    عنوان: زکاة کا نصاب کیا ہے؟ مال کا ڈھائی فیصد مال کا چالیسواں حصہ صحیح ہے یا ڈھائی فیصد ؟اگر نہیں ہے تو کیوں؟

    سوال: (۱) زکاة کا نصاب کیا ہے؟ مال کا ڈھائی فیصد مال کا چالیسواں حصہ صحیح ہے یا ڈھائی فیصد ؟اگر نہیں ہے تو کیوں؟ (۲) میرے پاس زمین کا ایک پلاٹ ہے ، اس کا استعمال بیچ کر گھر بنانے کی نیت ہے ، لیکن میرے والد کا ارادہ کارخانہ بنانے کا ہے تو کیا اس پر زکاة دینا ہوگی؟ اگر ہاں تو کتنی ؟ زکاة کس کو دے سکتے ہیں؟ (۳) کیا گھر کا کوئی فرد میری جانب سے ادا کرسکتاہے؟ (۴) صدقہ فطر میری جانب سے گھر کا کوئی فرد ادا کرسکتاہے؟ (۵) صدقہ فطرہ کا نصاب کیا ہے؟ جزا ک اللہ

    جواب نمبر: 47266

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1676-1402/H=1/1435-U (۱) زکاة کا نصاب چاندی میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولے چاندی) سونے میں بیس دینار (ساڑھے سات تولے سونا) روپے پیسے اورمالِ تجارت میں وہ مقدار ہے جو چاندی کی مذکورہ بالا مقدار یا اس سے زائد کی مالیت کو پہنچ جائے۔ مذکورہ چیزوں کی زکاة میں مال کا چالیسواں حصہ دیا جاتا ہے جو فی صد کے اعتبار سے ڈھائی فی صد بیٹھتا ہے۔ حدیث شریف ہے: عن علي عن النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- قال: فإذا کانت لک مائتا درہمٍ وحال علیہا الحول ففیہا خمسة دراہم ولیس علیک شيء یعنی في الذہب حتی تکون لک عشرون دینارًا فإذا کانت لک عشرون دینارًا وحال علیہا الحول ففیہا نصف دینارٍ فما زاد فبحساب ذلک․ (ابوداوٴد: ۱/۲۲۱، باب في زکاة السائمة) (۲) یہ پلاٹ آپ کی ملکیت میں ہے یا آپ کے والد کی؟ اگر خریدا گیا ہے تو کس نیت سے وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں۔ (۳،۴) اگر آپ گھر کے کسی فرد کو زکاة یا صدقة الفطر اداء کرنے کا وکیل بنادیں تو وہ زکاة اور صدقة الفطر ادا کرسکتا ہے، کل عقدٍ جاز أن یعقدہ الإنسان بنفسہ جاز أن یوکل بہ غیرہ (ہدایہ: ۲/۱۷۷، کتاب الوکالة مطبوعہ یاسر ندیم) (۵) صدقة الفطر کا نصاب وہی ہے جو زکاة کا ہے البتہ فرق یہ ہے کہ صدقة الفطر کے نصاب پر سال گذرنا شرط نہیں نیز نامی ہونا بھی شرط نہیں، پس اگر حوائج اصلیہ سے زائد مکان ہے یا بڑي بڑی دیگیں وغیرہ ہیں تو ان کو بھی صدقة الفطر کے نصاب میں شمار کیا جائیگا۔ وہي واجبة علی المالک لمقدار النصاب․․․ ولا یعتبر فیہ وصف النماء (عالمگیري: ۱/۲۵۳، الباب الثامن في صدقة الفطر مطبوعہ اتحاد دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند