• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 41713

    عنوان: زکات کب اور کس حالت میں دی جائے

    سوال: ۱- کیا زکات گھر کے ہر فرد پر فرض ہے جبکے سبھی فرد ایک ساتھ اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں؟ ۲-یا صرف والدین پر ہی؟ ۳- اگر زکات والدین پر فرض تھی ا ور انہوں نے ادا کر دی تو کیا فطر ہ دو آدمی کا دینا ہوگا یعنی والدین کا یا گھر کے سبھی لوگو ں کا؟ ۴-میرے بھائی کی شادی ۹ مہینے پہلے ہوئی تھی تو بھابی جو زیور لائی تھی تو کیا اسپر زکات فرض ہیا ور ہمارے پر ۲ تولہ چاندی تھی تو کیا اس پر بھی زکات فرض ہے یعنی بھابی کے زیور میں یہ ملانا پڑیگا؟ اور زکات کن کے پیسے سے دی جائے گی بھابھی کے یا بھائی کے؟ ۵-کسی پر زکات فرض نہیں تو کیا وو بھی فطرہ دے سکتا ہے؟ ۶- ہمارے ساتھ یعنی والدین کے ساتھ ۲ بھائی شادی شدہ رہتے ہیں تو کیا وہ الگ الگ اپنی زکات دینگے یا ایک ساتھ ملاکر یا صرف والدین ہی ادا کرینگے؟ ۹- سونا یا چاندی جس شخص کی ملکیت ہوتی ہے تو کیا ان پر ہی زکات فرض ہے یا گھر کا کوئی بھی دے سکتا ہے؟ ۷- جیسے نماز ہر شخص پر فرض ہے تو کیا ایسے ہی زکات بھی مالدار ہونے پر گھر کے ہر شخص پر فرض ہے؟

    جواب نمبر: 41713

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1812-410/B=11/1433 (۱و ۲) جب اولاد اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہے اور اپنی کمائی والدین کو دیدیتی ہے تو اس صورت میں گھر کے ہرفرد پر زکاة واجب نہیں، صرف والد صاحب کے ذمہ زکاة واجب ہے۔ اگر والدہ کے پاس اپنی ملکیت میں زیورات یا نقد ہے اور کل ملاکر612 گرام 360 ملی گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو ان کے ذمہ اپنے مال کی زکاة نکالنا علیحدہ سے واجب ہوگا۔ (۳) والد صاحب فطرہ اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کریں گے اور والدہ کہے تو ان کی طرف سے بھی ادا کریں گے۔ (۴) اگر وہ زیورات بھابھی اپنے میکہ سے لے آئی ہے تو وہ اس کی مالک ہے، اس کی زکاة بھابھی کے ذمہ واجب ہے۔ آپ پر فرض نہیں۔ آپ کے پاس 2تولے کے علاوہ زیور یا نقد یا مال تجارت اتنی مالیت کا ہے جو نصاب کے برابر اس کی مالیت پہنچ جاتی ہے تو اس پر زکاة واجب ہے ورنہ نہیں۔ بھابھی کے زیور میں ملانا جائز نہیں، زکاة بھابھی اپنے پیسوں سے ادا کرے گی اگر اس کے پاس نہ ہو تو اپنے شوہر سے لے کر ادا کرے گی۔ (۵) دے سکتا ہے۔ (۶) جب سب ایک ساتھ یعنی والدین کے ساتھ رہتے ہیں تو صرف والدین کے ذمہ زکاة واجب ہوگی۔ (۷) جس کی ملکیت میں ہے وہی زکاة دے گا۔ (۸) جی نہیں، نماز کی طرح اس کا معاملہ نہیں۔ نوٹ: نمبر (۱) و (۸) میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر لڑکے خود صاحب نصاب ہیں تو اپنے مال مملوکہ کی زکاة ان پر واجب ہوگی۔ (د)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند