• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 39473

    عنوان: سونے پہ زکات

    سوال: میری شادی پچھلے سال اکتوبر میں ہوئی تھی اور میری بیوی کی ملکیت میں کچھ سونا آیا تھا، میری بیوی نے اس سے قبل صاحب نصب نہیں تھی اس لئے کبھی زکاة ادا نہیں کی، انہوں نے یکم رمضان کی تاریخ طے کی ہے اپنی زکاة کے حساب کے لئے، کیا ایسے کسی بھی قمری ماہ کی تاریخ کو زکاة کے حساب کے لئے طے کرنا مناسب ہے؟ یا صاحب نصاب ہونے کی تاریخ ہی طے کی جانی چاہئے؟ اس سال یکم رمضان کو اس سونے کو انکی ملکیت میں ایک سال سے کم مدت کا عرصہ گزرا ہو گا تو کیا انہیں اس سونے پہ زکاة اس سال ادا کرنی ہو گی یا یہ اگلے سال رمضان کو دی جانے والی زکاة میں شامل ہو گی؟

    جواب نمبر: 39473

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 373-352/N=7/1433 قمری اعتبار سے صاحب نصاب بننے کی جو بھی تاریخ ہو مسئلہ زکاة میں اسی کا اعتبار کیا جائے گا یعنی ہرسال اسی تاریخ کو سال مکمل ہوگا اور اسی تاریخ کے لحاظ سے زکاة واجب ہوگی، اس لیے مسئلہ زکاة کے لیے اسی تاریخ کو طے کرنا ضروری ہوگا، کیف ما اتفق سال کے کسی بھی مہینہ کی کسی بھی تاریخ کو طے نہیں کیا جاسکتا، اس لیے صورت مسئول عنہا میں آپ کی اہلیہ قمری اعتبار سے شوال یا ذی قعدہ کی جس تاریخ میں صاحب نصاب بنی ہیں ہرسال ان میں اسی تاریخ میں زکاة فرض ہوگی، ہاں صاحب نصاب ہونے کی صورت میں سال مکمل ہونے سے پہلے بھی پیشگی زکاة ادا کی جاسکتی ہے، لیکن تاریخ وجوب زکاة تک اگر مال میں کچھ اضافہ ہوگیا تو اس کی بھی زکاة دینی ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند