• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 37107

    عنوان: زکاه کا استمال مدرسہ کے لئے

    سوال: ہمارے علاقہ میں ایک مدرسہ ہے جس میں اب ہمیں زیادہ کمرے یعنی کلاسوں کی ضرورت ہے۔گو لوگوں نے للہ پیسے دیئے ہیں ، لیکن وہ چندہ روم بنانے کے لیے ناکافی ہیں۔ کیا ہم زکاةکے پیسے مدرسہ کی بلڈنگ بنانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں؟ اگر کرسکتے ہیں تو استعمال کا طریقہ بتانے کے لئے گذارش ہے۔

    جواب نمبر: 37107

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 477=327-3/1433 زکاة کی رقم غریب مستحق زکاة کو مالک بناکر دینا ضروری ہے، بغیر اس کے زکاة ادا نہ ہوگی اور معطین کے مال زکاة کا وبال بذمہ صارف ہوگا۔ نیز زکاة کی رقم تعمیر میں لگانا جائز نہیں نہ ہی مدرسہ کی تعمیر میں لہٰذا آپ معطین زکاة سے معذرت کردیں کہ ہمارے یہاں اس کا مصرف نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند