• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 36732

    عنوان: بھائی كو زكاۃ دینا

    سوال: کیا میں اپنے بھائی کو زکاة دے سکتاہوں ؟ وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہا ہے اور میرے والد اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ والدصاحب کی ماہانہ آمدنی تین لاکھ روپئے ہیں مگر اب بھی ان کے ذمہ بینک کا قرض ہے اور مہینہ پورا ہونے بعد ان کی کوئی سيونگ نہیں ہوتی ہے اور تمام پیسے ختم ہوجاتے ہیں۔ میرا بھائی ایک موٹر بائک لینا چاہتاہے اوروالدصاحب اس قابل نہیں ہیں کہ اس کو بائک خرید کرد یں سوائے یہ کہ وہ اس کے لئے بینک سے قرض لیں۔ اس لیے میں اپنے بھائی کے لیے زکاة کی رقم سے بائک خریدنا چاہتاہوں۔براہ کرم،بتائیں کہ کیا اس طرح سے بھائی کو زکاة دینا جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 3673201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 247=192-3/1433 جی ہاں، آپ اپنے بھائی کو زکاة دے سکتے ہیں، اور زکاة کی رقم سے موٹر بائک بھی خریدکر دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ مستحق زکاة ہو۔ البتہ نصاب سے زیادہ رقم دینا مکروہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند