• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 33136

    عنوان: سوسائٹی میں صدقہ اور زکاة کی رقم

    سوال: ہماری ایک سوسائٹی ہے جو صدقہ اور زکاة کی رقم سے غریب اور نادار طلبہ پر دنیا وی تعلیم کے لیے خرچ کرتی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جو سوسائٹی ہے اسی کی زیر نگرانی ایک ہائی اسکول بھی چلتا ہے اور اس ہائی اسکول کی عمارت کسی اور کی ہے اور انہیں ہر ماہ ایک ہزار روپئے کرایہ دیا جاتاہے، چونکہ سوسائٹی کے پاس صرف زکاة کی رقم آتی ہے اور ہائی اسکول میں پڑھنے والے سبھی طلبہ غریب نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں اس رقم سے ہائی اسکول کا کرایہ دیا جاسکتاہے کیا؟براہ کرم، مسئلہ کاحل بتائیں۔

    جواب نمبر: 33136

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 1207=1207-8/1432 زکاة اور صدقہ واجبہ کی ادائیگی کے لیے تملیک فقیر شرط ہے، یعنی غریبوں اور مستحق افراد کو دے کر مالک بنادینا ضروری ہے، ورنہ زکاة ادا نہ ہوگی، معلوم نہیں سوسائٹی زکاة اور صدقہ کی رقم نادار طلبہ کی دنیاوی تعلیم پر کس طرح خرچ کرتی ہے؟ کیا جواز ہے ان کے پاس؟ زکاة کی رقم اسکول کے کرایہ میں دینا جائز نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند