• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 32633

    عنوان: میری تنخواہ 6500/ روپئے ہیں، مجھ پر کتنی زکاة واجب ہے؟ اور اس زکاة کے مستحق کون ہے؟ میری آپ سے درخواست ہے کہ زکاة کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔

    سوال: میری تنخواہ 6500/ روپئے ہیں، مجھ پر کتنی زکاة واجب ہے؟ اور اس زکاة کے مستحق کون ہے؟ میری آپ سے درخواست ہے کہ زکاة کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔

    جواب نمبر: 32633

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 966=814-7/1432 جس شخص کے پاس مقدارِ نصاب 52.5 تولہ (ساڑھے باون تولہ) یعنی چھ سو بارہ گرام چاندی یا ساڑھے سات (7.5) تولہ یعنی ستاسی گرام چار سو اسی ملی گرام (87.48 gm) سونا ہو یا اتنی قیمت کا تجارتی مال یا اسی کے بقدر نقد روپئے ہوں، اور اس پر سال گزرجائے تو اس (شخص) پر اس سرمایے کا چالیسواں حصہ یعنی 2.5% (ڈھائی فیصد) زکاة ادا کرنا واجب ہے، اب اگر آپ کے پاس تنخواہ وغیرہ سے بچ کر، نیز سونا، چاند، بینک بیلنس وغیرہ ملاکر مذکورہ بالا مقدارِ نصاب اکٹھا ہوجائے اور اس پر سال گذرجائے تو اس کے حساب سے زکات واجب ہوگی، زکاة کے مستحق اپنے غریب (جو صاحب نصاب نہ ہو) رشتے دار، عزیز واقارب، لاوارث بچے، نادار طلبہ، بیوائیں وغیرہ ہیں؛ مگر اپنے والدین اولاد اور نانا، نانی، دادا، دادی وغیرہ کو زکات دینا جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند