• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 31864

    عنوان: نقد‏، سرمایه‏، خام مال میں زكاة

    سوال: میرے دوست رانا عرفان کا کاروبار ہے جس میں کچھ مشینری، کارخانہ کی عمارت اور ملکیتی زمین، نقد سرمایہ، خام مال اور تیار شدہ مال اور قابل وصولی رقم ہے۔ اس کے علاوہ کچھ سرمایہ محفوظ بھی ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ ان میں ہرایک یہ کس نصاب سے زکاة لاگو ہوتی ہے؟ برائے مہربانی ہرچیز کے بارے میں علاحدہ علاحدہ وضاحت کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 31864

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1008=156-6/1432 مشینری، کارخانہ کی عمارت اور ملکیتی زمین پر زکاة واجب نہیں۔ ان کے علاوہ نقد سرمایہ اور محفوظ سرمایہ پر زکاة واجب ہے۔ اسی طرح خام مال اور تیار شدہ مال جو تجارت کے لیے ہو اس کی قیمت پر بھی زکاة واجب ہے، جب کہ چاندی کے نصاب (جو تقریباً 613 گرام ہے) کی قیمت کے بقدر ہو اور سال گذرجائے جو رقم دوسروں پر قرض ہے اس پر بھی زکاة واجب ہے۔ البتہ اس کی ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب وہ وصول ہوجائے؛ لیکن وصول ہونے کے وقت تمام پچھلے سالوں کی زکاة ادا کرنی ہوگی۔ لہٰذا سہولت اس میں رہتی ہے کہ ہرسال جتنی رقم کہیں قرض دی گئی ہے اس کی زکاة بھی ادا کی جاتی رہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند