• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 27044

    عنوان: میرے والد صاحب میرے سارے پیسوں کی زکاة کا اور ہر چیز کا حساب رکھتیتھے، لیکن اب ان کا اانتقال ہوگیا ہے، انہوں نے بتایا تھا کہ بینک میں 2500/ روپئے ربا کے جمع ہوئیے ہیں ، لیکن میں نے ابھی تک وہ پیسہ استعمال نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی کو دیا ہے۔ اب میری بہن کی لڑکی کی شادی ہے ، کیا میں وہ پیسے بنا کسی نیت کے ان کو دے سکتاہوں؟ وہ لوگ غریب ہیں۔ براہ کرم، جواب دیں۔ 

    سوال: میرے والد صاحب میرے سارے پیسوں کی زکاة کا اور ہر چیز کا حساب رکھتیتھے، لیکن اب ان کا اانتقال ہوگیا ہے، انہوں نے بتایا تھا کہ بینک میں 2500/ روپئے ربا کے جمع ہوئیے ہیں ، لیکن میں نے ابھی تک وہ پیسہ استعمال نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی کو دیا ہے۔ اب میری بہن کی لڑکی کی شادی ہے ، کیا میں وہ پیسے بنا کسی نیت کے ان کو دے سکتاہوں؟ وہ لوگ غریب ہیں۔ براہ کرم، جواب دیں۔ 

    جواب نمبر: 27044

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 1600=1600-11/1431

    اگر بہن کی لڑکی غریب، مفلوک الحال اور تنگ دست ہے تو بینک کی سودی رقم بلانیت ثواب اس کو دی جاسکتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند