• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 26523

    عنوان: پچھلے سال ماہ اگست میں میں نے اپنے بڑے بھائی کو ایک لاکھ روپئے قرض دیا تھا ، اس کے بعد اب میرے پاس اور ایک لاکھ نقد روپئے جمع ہوئے ہیں جسے میں کاروبار میں استعمال کررہا ہوں۔ میری بیوی کے پاس چار تولہ اور چھ گرام سونا ہے ، کیا مجھ پر زکاة واجب ہے؟اگر ہے تو کتنی ہوگی؟اور کیا مجھ پر قربانی بھی دینا واجب ہوگی ؟ گھر میں میرے علاوہ میری بیوی اور دوبیٹے ، چار سال اور نو سال کے ہیں، قربانی مجھے اکیلے دینی ہوگی یا گھر کے ہر فرد کی طرف سے دینی ہوگی؟

    سوال: پچھلے سال ماہ اگست میں میں نے اپنے بڑے بھائی کو ایک لاکھ روپئے قرض دیا تھا ، اس کے بعد اب میرے پاس اور ایک لاکھ نقد روپئے جمع ہوئے ہیں جسے میں کاروبار میں استعمال کررہا ہوں۔ میری بیوی کے پاس چار تولہ اور چھ گرام سونا ہے ، کیا مجھ پر زکاة واجب ہے؟اگر ہے تو کتنی ہوگی؟اور کیا مجھ پر قربانی بھی دینا واجب ہوگی ؟ گھر میں میرے علاوہ میری بیوی اور دوبیٹے ، چار سال اور نو سال کے ہیں، قربانی مجھے اکیلے دینی ہوگی یا گھر کے ہر فرد کی طرف سے دینی ہوگی؟

    جواب نمبر: 26523

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1645=467-11/1431

    زکات آدمی پر اس وقت فرض ہوتی ہے جب آدمی نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی اور موجودہ گرام کے حساب سے ۶۱۲ گرام ۳۵/ ملی گرام چاندی کی قیمت کا مالک ہوجائے، اور اس رقم پر سال بھی گذرجائے، سال گذرجانے پر جتنی رقم موجود ہو (بشرطیکہ وہ نصاب سے کم نہ ہو) زکاة دیدی جائے، واضح رہے کہ زکاة اس رقم پر بھی واجب ہے، جو آدمی دوسرے کو قرض دیے ہوئے ہے، زکاة کی مقدار ڈھائی فی صد ہے، اس تفصیل کی روشنی میں آپ اپنی زکاة خود ہی نکال سکتے ہیں۔ آپ کی بیوی کے پاس سونے کے علاوہ چاندی کا زیور یا کچھ نقدی بھی ہے یا نہیں اس کی وضاحت کرکے سوال کریں۔ قربانی صرف آپ کو اپنی طرف سے کرنی ہوگی، آپ کی اہلیہ پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟ اس کا حکم اسی وقت لکھا جائے گا جب آپ مذکورہ بالا امور کی صراحت بیوی کے نصاب کے بارے میں کرکے دوبارہ استفتاء ارسال کیں۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند