• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 25506

    عنوان: زکات پیسے کی مقدار پر ہے؟ سال پورا ہونے پر جو رقم بچ جائے تو اس پر یا سال کے درمیان پیسے کی جو سب سے کم مقدارہو پر اس پرزکاة ہوگی؟

    سوال: زکات پیسے کی مقدار پر ہے؟ سال پورا ہونے پر جو رقم بچ جائے تو اس پر یا سال کے درمیان پیسے کی جو سب سے کم مقدارہو پر اس پرزکاة ہوگی؟

    جواب نمبر: 25506

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 1878=1360-9/1431

    سال پورا ہونے پر جس قدر رقم ملکیت میں ہے، سب پر زکات ہے۔
    البتہ زکات کے وجوب کے لیے شروع سال اور اخیر سال میں 
    بقدر نصاب رقم ہونا ضروری ہے، درمیان میں اگر کچھ کمی بیشی ہوجائے تو اس کا اعتبار نہیں ہے۔ (ل)



    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند