• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 2514

    عنوان:

    زکاة کے بارے میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ ایک آدمی جس کے پاس رہنے کے لیے اپنا گھر، چار کینل زرعی زمین جس پر وہ خود کاشت کرتا ہے، چار تولہ سونا ہے، پچاس ہزار روپئے کے جانور اپنے استعمال کے لیے ، ۱۲/ لاکھ کا رہائشی پلاٹ جو اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر تجارت کی نیت سے ہوا ہے (جس میں اس کا شیئر تین لاکھ ہے) یہ سب مال واسباب ہیں ، لیکن اس کا گذر بسر مشکل سے ہوتا ہے اور اس وقت اس پر ۱۵/ہزار روپئے قرض بھی ہیں تو کیا اس شخص کو زکاة دینا درست ہے؟ اگر پلاٹ میں اس آدمی کی نیت تجارت کی ہے اور باقی بھائیوں کی نہیں ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم، تفصیل سے جواب دیں۔

    سوال:

    زکاة کے بارے میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ ایک آدمی جس کے پاس رہنے کے لیے اپنا گھر، چار کینل زرعی زمین جس پر وہ خود کاشت کرتا ہے، چار تولہ سونا ہے، پچاس ہزار روپئے کے جانور اپنے استعمال کے لیے ، ۱۲/ لاکھ کا رہائشی پلاٹ جو اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر تجارت کی نیت سے ہوا ہے (جس میں اس کا شیئر تین لاکھ ہے) یہ سب مال واسباب ہیں ، لیکن اس کا گذر بسر مشکل سے ہوتا ہے اور اس وقت اس پر ۱۵/ہزار روپئے قرض بھی ہیں تو کیا اس شخص کو زکاة دینا درست ہے؟ اگر پلاٹ میں اس آدمی کی نیت تجارت کی ہے اور باقی بھائیوں کی نہیں ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم، تفصیل سے جواب دیں۔

    جواب نمبر: 2514

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1726/ ب= 1522/ ب

     

    جو پلاٹ آپ نے تجارت کی نیت سے لیا ہے اس میں زکوٰة واجب ہے۔ 15 ہزار کا قرض منہا کرنے کے بعد آج پلاٹ کی جو قیمت بنتی ہے اس میں سے 15 ہزار منہا کرنے کے بعد باقی ماندہ مالیت میں چالیسواں حصہ زکوٰة نکالنا واجب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند