• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 24890

    عنوان: میرا سوال زمین پر زکاة سے متعلق ہے۔ میں نے 2007/2008/2009/ میں زمینیں خریدی ہیں اور ہرسال میں نے ان زمینوں کی زکاة دی ہے چونکہ ہمارے علاقے مولانا نے مجھے بتا یا کہ اگر کوئی سرکامایا کاری کے مقصد سے زمین خریدتا ہے تو حالیہ مارکیٹ کے مطابق زکاة دینا ہو گی۔میرا شک یہ ہے کہ میں مستقبل میں زمین نہیں بیچ رہا ہوں بلکہ میں اسے اپنے اور اپنی فیملی کے لئے اثاثے کے طورپر خرید رہا ہوں۔ اگر کوئی پریشانی پیداہوئی یا پیسوں کی شدید ضرورت آن پڑی تو میں زمین فروخت کروں گا ورنہ نہیں ۔ کیا مجھے ہر سال زکاة دینا ہوگی یا مستقبل میں جب اسے فروخت کروں گا تب زکاواجب ہوگی؟میرے نام سے کوئی گھر نہیں ہے سوائے ان تین زمینوں کے ۔

    سوال: میرا سوال زمین پر زکاة سے متعلق ہے۔ میں نے 2007/2008/2009/ میں زمینیں خریدی ہیں اور ہرسال میں نے ان زمینوں کی زکاة دی ہے چونکہ ہمارے علاقے مولانا نے مجھے بتا یا کہ اگر کوئی سرکامایا کاری کے مقصد سے زمین خریدتا ہے تو حالیہ مارکیٹ کے مطابق زکاة دینا ہو گی۔میرا شک یہ ہے کہ میں مستقبل میں زمین نہیں بیچ رہا ہوں بلکہ میں اسے اپنے اور اپنی فیملی کے لئے اثاثے کے طورپر خرید رہا ہوں۔ اگر کوئی پریشانی پیداہوئی یا پیسوں کی شدید ضرورت آن پڑی تو میں زمین فروخت کروں گا ورنہ نہیں ۔ کیا مجھے ہر سال زکاة دینا ہوگی یا مستقبل میں جب اسے فروخت کروں گا تب زکاواجب ہوگی؟میرے نام سے کوئی گھر نہیں ہے سوائے ان تین زمینوں کے ۔

    جواب نمبر: 24890

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1433=996-9/1431

    اگر زمین وجائداد اپنے اور اپنی فیملی کے اثاثے کے طور پر خریدی جائے اور دل میں یہ ارادہ ہو کہ اگر پریشانی پیدا ہوئی یا پیسوں کی شدید ضرورت ہوئی تو زمین فروخت کروں گا ورنہ نہیں تو ایسی صورت میں وہ زمین مال تجارت نہیں ہوئی، لہٰذا اس زمین کی مالیت پر زکات بھی نہیں ہے، البتہ اگر بوقت ضرورت زمین فروخت کردی جائے تو اس سے حاصل آمدنی پر بشرا ئطِ وجوبِ زکات، زکات واجب ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند