• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 24783

    عنوان: میں طالب علم ہوں اور ہمارے مدرسہ میں چھٹی شروع ہوگئی ہے، میں نے نظر مانی ہے کہ جب تک میں گھر پر رہوں گا روزہ رکھوں گا سوائے عید کے دن، یہ نظر غیر معلق ہے اور نظر میں مکان اور زمان کا اعتبار نہیں ہوتاہے۔ سوال یہ ہے کہ مجھ پر کتنے روزے واجب ہوں گے،؟ کیا گھر ہی پر رکھنا ضروری ہے؟ (۲) اگر نہ رکھوں یا رکھوں ، لیکن عذر کے بناپر توڑ دوں تو قضا واجب ہے یا کفارہ؟اگر کفارہ ہے تو کتنے روز؟

    سوال: میں طالب علم ہوں اور ہمارے مدرسہ میں چھٹی شروع ہوگئی ہے، میں نے نظر مانی ہے کہ جب تک میں گھر پر رہوں گا روزہ رکھوں گا سوائے عید کے دن، یہ نظر غیر معلق ہے اور نظر میں مکان اور زمان کا اعتبار نہیں ہوتاہے۔ سوال یہ ہے کہ مجھ پر کتنے روزے واجب ہوں گے،؟ کیا گھر ہی پر رکھنا ضروری ہے؟ (۲) اگر نہ رکھوں یا رکھوں ، لیکن عذر کے بناپر توڑ دوں تو قضا واجب ہے یا کفارہ؟اگر کفارہ ہے تو کتنے روز؟

    جواب نمبر: 24783

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 1845=1205-9/1431

    جب تک آپ گھر میں رہیں گے روزہ رکھنا آپ کے لیے لازم ہے، اگر نہیں رکھایا رکھ کر توڑدیا تو اس کی قضا لازم ہے، کفارہ واجب نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند