• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 2465

    عنوان: کیا مدرسوں میں یا ایسے اسکولوں زکاة دی جاسکتی ہے جہاں مسلم بچوں کو عصری اور بنیادی اسلامی تعلیم دی جاتی ہے اور وہ اسلامی اسکول کے نام سے مشہور ہے؟ (۲) میرے آفس میں ایک ہندو کام کررہا ہے، وہ بہت غریب ہے، کیا میں اس کو زکاة دے سکتا ہوں؟

    سوال: کیا مدرسوں میں یا ایسے اسکولوں زکاة دی جاسکتی ہے جہاں مسلم بچوں کو عصری اور بنیادی اسلامی تعلیم دی جاتی ہے اور وہ اسلامی اسکول کے نام سے مشہور ہے؟ (۲) میرے آفس میں ایک ہندو کام کررہا ہے، وہ بہت غریب ہے، کیا میں اس کو زکاة دے سکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 2465

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 980/ د= 932/ د

     

    زکاة کی رقم کسی غریب کو دے کر اس کا مالک بنادینا ضروری ہے۔ تملیک فقیر اس میں ضروری ہوتی ہے اسکول کے بچے اگر غریب ہیں تو خود ان کو دے سکتے ہیں، لیکن مذکورہ اسکولوں میں دینے سے زکاة ادا نہ ہوگی۔

    (۲) زکوٰة کی رقم غیرمسلم کو دینا جائز نہیں ہے: قال في الدر ولا تدفع إلی ذمي (ج۲ص۷۳، شامي)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند